ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 218 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 218

شرمپت اس وقت جانے لگا۔فرمایا۔بیٹھو! ان کے ساتھ جانا یہ شرطِ وفا نہیں۔پھر حضرت اقدس نے اسی سلسلہ سابقہ میں فرمایاکہ جس قدر ارادے آپ نے اپنی عمر میں کیے ہیں اُن میں سے بعض پورے ہوئے ہوں گے مگر اب سوچ کر دیکھو کہ وہ ایک بُلبلہ کی طرح تھے جو فوراً معدوم ہوجاتے ہیں اور ہاتھ پلّے کچھ نہیں پڑتا۔گذشتہ آرام سے کوئی فائدہ نہیں اس کے تصوّر سے دکھ بڑھتا ہے۔اس سے عقل مند کے لیے یہ بات نکلتی ہے کہ انسان ابنُ الوقت ہو، رہی زندگی انسان کی جو اس کے پاس موجود ہے۔جو گذر گیا وہ وقت مَر گیا۔اس کے تصوّرات بے فائدہ ہیں۔دیکھو! جب ماں کی گود میں ہوتا ہے اس وقت کیا خوش ہوتا ہے سب اُٹھائے ہوئے پھرتے ہیں۔وہ زمانہ ایسا ہوتا ہے کہ گویا بہشت ہے۔اور اب یاد کر کے دیکھو کہ وہ زمانہ کہاں؟ سعدی کہتا ہے ؎ من آنگہ سر تا جور داشتم کہ بر فرقِ ظلِ پدر داشتم اگر بر وجودم نِشستے مگس پہ پریشاں شد خاطرے چند کس یہ زمانے پھر کہاں مل سکتے ہیں۔لکھا ہے کہ ایک بادشاہ چلاجاتا تھا۔چند چھوٹے لڑکوں کو دیکھ کر روپڑا کہ جب سے اس صحبت کوچھوڑا دکھ پایاہے۔پیرانہ سالی کا زمانہ بُرا ہے۔اس وقت عزیز بھی چاہتے ہیں کہ مَر جاوے اور مَرنے سے پہلے قویٰ مَر جاتے ہیں۔دانت گر جاتے ہیں۔آنکھیں جاتی رہتی ہیں۔اور خواہ کچھ ہی ہو آخر پتھر کا پتلاہو جاتا ہے شکل تک بگڑ جاتی ہے۔اور بعض ایسی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ آخرخود کشی کر لیتے ہیں۔بعض اوقات جن دکھوں سے بھاگناچاہتا ہے یکدفعہ ان میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اگراولاد ٹھیک نہ ہو تو اور بھی دکھ اُٹھاتا ہے۔اس وقت سمجھتا ہے کہ غلطی کی اور عمر یونہی گذر گئی۔مگر دوہرہ ؎ آگے کے دن پاچھے گئے اور ہر خدا سے کیو نہ ہیت اب پچتائے کیا ہوت ہے جب چڑیا چُگ گئیں کھیت