ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 212

کیا انسان ابتدا میں وحشی تھا جناب ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے ذکر کیا کہ ایک شخص نے ان سے اس اَمر پر گفتگو کی کہ انسان پہلے وحشی تھا اور وہ پھر ترقی کرتے کرتے تہذیب کے درجہ پر پہنچا ہے۔فرمایا کہ جب ہم انسان کو مہذّب دیکھتے ہیں تو کیوں اس کی جڑ تہذیب نہ بتائیں۔قرآن شریف سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ۔ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ(التّین:۵،۶) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پیچھے وحشی بن گئے۔میں کہتا ہوں کہ کیا خدا تعالیٰ کو پہلا عمدہ نمونہ دکھانا چاہیے تھا یا خراب اور اَوَّلُ الدُّنِّ دُرْدٌ کا مصداق خدا نے بُرا بنایا تھا اور پھر گھِس گھِس کر خود عمدہ بن گیا یہ خدا تعالیٰ کی شان میں گستاخی اور توہین ہے۔مثنوی سے ایک مثال اس کی تو وہی مثال ہے جو مثنوی میں ایک بہرہ کی حکایت لکھی ہے کہ وہ کسی بیمار کی عیادت کو گیا اور خود ہی تجویز کر لیا کہ پہلے مزاج پوچھوں گا۔وہ کہے گا اچھا ہے۔میں کہوں گا الحمدﷲ۔اور پھر میں پوچھوں گا کہ آپ کیا کھاتے ہیں تو وہ چونکہ بیمار ہے یہی کہے گا کہ مونگ کی دال کھاتا ہوں۔میں کہوں گا بہت اچھا ہے اور پھر پوچھوں گا طبیب کون ہے۔وہ کہے گا کہ فلاں ہے۔میں کہوں گا خوب ہے۔دستِ شفا ہے۔لیکن جب وہاں گئے تو بہرہ۔(مریض سے) آپ کامزاج کیسا ہے؟ مریض۔مَر رہا ہوں۔بہرہ۔الحمدﷲ۔بہرہ۔(مریض سے) آپ کی غذا کیا ہے؟ مریض۔خونِ جگر۔بہرہ۔بہت اچھی غذا ہے۔بہرہ۔(مریض سے) طبیب کون ہے؟ مریض۔ملک الموت۔