ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 211

سلطنتوں اور خاص کر ہماری سلطنت کا بہت بڑا اقبال ہے۔حدیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر سلطنت میں طاعون جاوے گی۔ان کو خدا کے تصرّف پر یقین نہیں۔پہلے بادشاہوں کا یہی حال تھا کہ جب کوئی آفت رعایا پر آتی تو خود اُن میں تضرّع کی حالت پیدا ہوتی اور وہ دعائیں کرتے اور کراتے اور صدقات سے کام لیتے۔مگر آج کل تدابیر اور اسباب ہی پر سارا بھروسہ ہے۔دعائوں کو لغو اور بیہودہ شَے سمجھا گیا ہے۔اور اصل تو یہ ہے کہ قضا و قدر کا سارا سلسلہ تو سچے خدا پر ایمان لانا تھا۔جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا مان لیا۔پھر اس سلسلہ پر کیوں ایمان لاتے۔افیون کی مضرَّت فرمایا۔جو لوگ افیون کھاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں موافق آگئی ہے۔وہ موافق نہیں آتی۔دراصل وہ اپنا کام کرتی رہتی ہے اور قویٰ کو نابود کر دیتی ہے۔اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ اﷲ تعالیٰ نے جو ہمیں بشارت دی ہے یہ سچ ہے اور یہ ایک نشان ہے اس کی طرف سے۔اﷲ تعالیٰ کسی علاج سے منع نہیں کرتا بلکہ شہد اور مشک وغیرہ کا خود ذکر کرتا ہے۔اس لیے اگر ٹیکا ضروری ہوتا تو سب سے پہلے ہم کو حکم ہوتا۔خود گورنمنٹ کو بھی اس پر پورا وثوق نہیں ہے۔یہ الہام جو اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ ہے اس میں ڈرایا بھی ہے جبکہ اس نے فرمایا ہے اِلَّاالَّذِیْنَ عَلَوْا بِاسْتِکْبَارٍ جو لوگ فسق کی پروا نہیں کرتے وہ اﷲ تعالیٰ کی اس ذمہ داری سے الگ ہیں اور جن لوگوں کی زندگی کا درجہ ختم ہو گیا ہے وہ بھی الگ ہیں۔اور سب سے آخر یہ بات ہے کہ نسبتاً جو اُن میں ہیں وہ محفوظ رہیں گے۔قرآن شریف میں بھی آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں اور کافروں میں ایک فرق رکھ دیتا ہے اور ان میںفاروق ہوجاتا ہے اﷲ تعالیٰ ہر شَے پر قادر ہے۔اس زندگی میں کیا مزہ ہے جو حشائش پر ہاتھ مارتا ہے۔وہی زندگی بہشتی زندگی اور قابلِ قدر زندگی ہے جس میں اﷲ تعالیٰ سے تمسّک ہو ورنہ حشائش پر ہاتھ مارنے والوں کی زندگی کی تو ایسی مثال ہے جیسے بلی کے بچہ کے پیچھے کتا ہو اور وہ چُوہے کے بِل پر ہاتھ مارتا پھرے۔