ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 205

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۵ جلد سوم کو مل جائیں گے۔ طاعون شروع ہوگئی ہے اور وہ ابھی ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں۔ اس لیے تم ان باتوں کا ذکر ہی نہ کرو کہ گھر چھوٹ گئے ورنہ ثواب جاتا رہے گا۔ طاعون کے ذکر پر فرمایا۔ طاعون کی اقسام تین قسم کی طاعون ہے۔ اول صرف تپ چڑھتا ہے اور گھی لگتی ہے اور بعض گل ایسے ہیں کہ سخت تپ ہی ہوتا ہے۔ اور بعض ایسی ہوتی ہے کہ نہ تپ ہے نہ کچھ اور بس خاتمہ ہی ہو جاتا ہے۔ جناب نواب صاحب کے لڑکے کے مچھلی کی ہڈی گلے میں پھنس جانے کا علاج گلے میں ایک بڑی کا فکر پھنس گیا تھا۔ مولوی صاحب اس کے علاج کے لیے گئے ہوئے تھے۔ جب نواب صاحب کے ساتھ واپس آئے تو اُنہوں نے ذکر کیا کہ ہڈی پھنس گئی تھی اور شکر ہے کہ نکل گئی۔ فرمایا۔ پچھلی کی ہڈی کا علاج تو سہل ہے کہ دہی سر کہ ملا کر پلا یا جاوے تو فورا نکل جاتی ہے۔ اور فرمایا کہ خدا کا فضل قدم قدم پر انسان کو مطلوب ہے اگر اس کا فضل نہ ہو تو یہ جی نہیں سکتا۔ مولوی عبد اللہ صاحب کشمیری نے دھرم کوٹ میں مسیح موعود کا ذکر قرآن کریم میں جو ان کا مائع ہوا تھا اسکا منتر کا تذکرہ کیا اور مہر نبی بخش صاحب بٹالوی کا بھی ذکر کیا کہ وہ وہاں آئے تھے اور انہوں نے ایک مختصر سی تقریر کی تھی ۔ مولوی عبداللہ صاحب نے کہا کہ وہ بار بار یہ اعتراض کرتے تھے کہ مرزا صاحب کا نام قرآن سے نکال کر دکھاؤ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ وہ احمق نہیں جانتے کہ اگر خدا تعالیٰ ایسے صاف طور پر کہتا تو اختلاف کیوں ہوتا؟ یہودی اسی طرح تو ہلاک ہو گئے ۔ بات یہ ہے کہ اگر خدا اس طرح پر پردہ برانداز کلام کرے تو ایمان ایمان ہی نہ رہے۔ فراست سے دیکھنا چاہیے کہ حق کیا ہے؟ ہماری تائید میں تو اس قدر دلائل ہیں کہ فراست والا سیر ہو کر کہتا ہے کہ یہ صحیح ہے۔ یا درکھو کہ گفتگو کرتے وقت ضروری ہے کہ پہلے مذہب متعین کرلو۔