ملفوظات (جلد 3) — Page 201
ملفوظات حضرت مسیح موعود کا مصداق ہو۔ ۲۰۱ جلد سوم منطقی بات بد بودار ہوتی ہے کیونکہ اس میں برے داؤ پیچ ہی ہوتے ہیں۔ اس لیے منطقیانہ طریق کو چھوڑ کر عارفانہ تقریر کا پہلو اختیار کرنا چاہیے۔ در بار شام) آج بعد عصر حضرت صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد سلمہ اللہ الاحد کی برات روڑ کی سے واپس آئی تھی ۔ اس موقع پر ایڈیٹر الحکم نے اپنی احمدی جماعت کی طرف سے ایک مبارکباد کا خاص پر چہ شائع کیا جو برات کے دارالامان پہنچتے ہی شائع کیا گیا تھا۔ واقعہ صلیب کے بعد مسیح کی زندگی کے متعلق پطرس کی شہادت قبل نماز مغرب جب حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے تو روڑ کی سے آئے ہوئے احباب ملے جو برات میں گئے تھے ۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے ( جو حضرت اقدس کے سلسلہ میں ایک درخشندہ گوہر ہیں اور جو عیسائیوں کی کتابوں کو پڑھ کر ان میں سے سلسلہ عالیہ کے مفید مطلب مضامین کے اقتباس کرنے کا بے حد شوق اور جوش رکھتے ہیں ) پطرس کے متعلق سنایا کہ روڑ کی میں پادریوں سے مل کر میں نے اس سوال کو حل کیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ صلیب کے وقت پطرس کی عمر ۳۰ یا ۴۰ کے درمیان تھی ۔ ناظرین کو اس سوال عمر پطرس کی ضرورت کے لیے ہم الحکم کا وہ نوٹ یاد دلاتے ہیں جس میں ظاہر کیا گیا تھا کہ بعض کا غذات اس قسم کے ہیں ۔ جن میں پطرس لکھتا ہے کہ میں نے مسیح کی وفات سے تین سال بعد ان کو لکھا ہے۔ اور اب میری عمر ۹۰ سال کی ہے۔ گو یا مسیح نے جب وفات پائی تو پطرس کی عمر ۷ ۸ سال کی ہوئی اور واقعہ صلیب کے وقت پطرس کی عمر تیس اور چالیس کے درمیان بتائی جاتی ہے تو اب اس سے صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ مسیح واقعہ صلیب کے بعد کم از کم ۴۷ سال تک بموجب اس تحریر کے زندہ رہا۔ اور پطرس ان کے ساتھ رہا۔ اور یہ ثابت ہو گیا کہ صلیب پر مسیح نہیں مرا بلکہ طبعی موت سے مرا ہے اور نہ آسمان پر اس جسم کے ساتھ اٹھایا گیا، کیونکہ راس الحوار بین پطرس اس کی موت کا