ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 199

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۹ جلد سوم میاں اللہ بخش صاحب امرتسری نے عرض کیا کہ حضور یہ جو برات کے ساتھ باجا بجانا براتوں کے ساتھ باجے بجائے جاتے ہیں۔ اس کے متعلق حضور کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا۔ فقہاء نے اعلان بالدف کو نکاح کے وقت جائز رکھا ہے اور یہ اس لیے کہ پیچھے جو مقدمات ہوتے ہیں تو اس سے گویا ایک قسم کی شہادت ہو جاتی ہے۔ ہم کو مقصود بالذات لینا چاہیے۔ اعلان کے لئے یہ کام کیا جاتا ہے یا کوئی اپنی شیخی اور تعلی کا اظہار مقصود ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض چپ چاپ شادیوں میں نقصان پیدا ہوئے ہیں۔ یعنی جب مقدمات ہوئے ہیں تو اس قسم کے سوال اُٹھائے گئے ہیں ۔ غرض ان خرابیوں کے روکنے کے لیے اور شہادت کے لیے اعلان بالدف جائز ہے اور اس صورت میں باجا بجانا منع نہیں ہے، بلکہ نسبتوں کی تقریب پر جو شکر وغیرہ بانٹتے ہیں۔ دراصل یہ بھی اس غرض کے لیے ہوتی ہے کہ دوسرے لوگوں کو خبر ہو جاوے اور پیچھے کوئی خرابی پیدا نہ ہو۔ مگر اب یہ اصل مطلب مفقود ہو کر اس کی جگہ صرف رسم نے لے لی ہے اور اس میں بھی بہت سی باتیں اور پیدا کی گئی ہیں ۔ پس ان کو رسوم نہ قرار دیا جاوے بلکہ یہ رشتہ ناطہ کو جائز کرنے کے لیے ضروری امور ہیں ۔ یاد رکھو جن امور سے مخلوق کو فائدہ پہنچتا ہے ، شرع اس پر ہرگز زد نہیں کرتی ۔ کیونکہ شرع کی خود یہ غرض ہے کہ مخلوق کو فائدہ پہنچے۔ آتش بازی اور تماشا وغیرہ یہ بالکل منع ہیں کیونکہ اس سے مخلوق کو کوئی فائدہ بجز نقصان کے نہیں ہے۔ اور باجا بجانا بھی اسی صورت میں جائز ہے جبکہ یہ غرض ہو کہ اس نکاح کا عام اعلان ہو جاوے اور نسب محفوظ رہے کیونکہ اگر نسب محفوظ نہ رہے تو زنا کا اندیشہ ہوتا ہے۔ جس پر خدا نے بہت ناراضی ظاہر کی ہے۔ یہاں تک کہ زنا کے مرتکب کو سنگسار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے اعلان کا انتظام ضروری ہے البتہ ریا کاری ، فسق و فجور کے لیے یا صلاح و تقوی کے خلاف کوئی منشا ہو تو منع ہے۔ شریعت کا مدار نرمی پر ہے سختی پر نہیں ہے لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرۃ: ۲۸۷) باجہ کے متعلق حرمت کا کوئی نشان بجز اس کے کہ وہ صلاح و تقویٰ کے خلاف اور ریا کاری اور فسق و فجور کے