ملفوظات (جلد 3) — Page 195
اور اس سے فائدہ پہنچے گا۔بعض صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ امام کی کیا ضرورت ہے ان کے لیے بھی یہ مفید ہوگی۔پس یہ دو قسم کی اشاعت اچھی ہے۔اﷲ تعالیٰ چاہے گا تو اس سے فائدہ پہنچے گا۔اَلْمُؤْمِن اور اَلنَّاس ثبوت اس قسم کے دیئے ہیں کہ اﷲ اکبر ! یہاں تک کہ مشہودات اور محسوسات سے ایمان کی تقویت ہوتی ہے لیکن جو لوگ ایمانی فراست سے حصہ رکھتے ہیں وہ پہلے ہی سمجھ لیتے ہیں جو لوگ حق قبول کرتے ہیں وہ اسی وقت فراست والے کہلاتے ہیں جب وہ اوّل ہی اوّل قبول کرتے ہیں۔خدا جو مومنوں کی تعریف کرتا ہے اور رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ (البیّنۃ : ۹) کہتا ہے اسی لیے کہ اُنہوں نے اپنی فراست سے پہلے رسول اﷲؐ کو مان لیا۔لیکن جب کثرت سے لوگ داخل ہونے لگے اور انکشاف ہوگیا اس وقت داخل ہونے والے کا نام النّاس رکھا ہے۔اس حالت میں تو گویا منع کرتا ہے یہ کہہ کر قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا (الـحجرات : ۱۵) یعنی یہ مت کہو کہ ہم ایمان لائے بلکہ یہ کہو کہ ہم نے اطاعت کی۔ایمان اس وقت ہوتا ہے جب ابتلا کے موقع آویں۔جن پر ایمان لانے کے بعد ابتلا کے موقعے نہیں آئے وہ اَسْلَمْنَا میں داخل ہیں اُنہوں نے تکلیف کا نشانہ ہوکر نہیں دیکھا بلکہ وہ اقبال اور نصرت کے زمانہ میں داخل ہوئے۔یہی وجہ ہے کہ فخر کا نام اور خطاب ان کو نہ ملا بلکہ النّاس ان کا نام رکھا کیونکہ وہ ایسے وقت داخل ہوئے جب کام چل پڑا۔اور رسول اﷲؐ نے اپنی صداقت کی روشنی دکھلائی۔اس وقت دوسرے مذاہب حقیر نظر آئے تو سب داخل ہو گئے۔انبیاء کا استغفار نبی بہت بڑی ذمہ داریاں لے کر آتا ہے۔اس لیے جب وہ اپنے کام کو کر چکتا ہے اور تبلیغ کر کے رخصت ہونے کو ہوتا ہے تو وہ وقت اس کا گویا خدا تعالیٰ کو چارج دینے کا ہوتا ہے۔ایسے وقت میں اﷲ تعالیٰ جس پر اپنا فضل کرتا ہے اس پر استغفار کا لفظ بولتا ہے۔طریق کے موافق رسول اﷲؐ کو بھی ارشادِ الٰہی اسی طرح ہوتا ہے فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا( النّصـر : ۴) خدا تعالیٰ ہر ایک نقص سے پاک ہے اس کی تسبیح کر اور جو کچھ سہو بشریت کی رُو سے اس ذمہ داری کے کام میں ہوا ہے تو اس سے استغفار چاہو۔جس کے سپرد