ملفوظات (جلد 3) — Page 194
کہتے ہیں کہ نفس چونکہ باز نہیں آتا اس لیے ضروری ہے کہ کوئی نہ کوئی محرک ہی ہو۔اس دنیا کا انجام کار خاتمہ ہوتا ہے اور دوسرا عالم بھی یقینی ہے اور وہ زندگی کا عالم ہے۔خواہ پہلی بار ہی اگر وہاں جاکر آنکھ کھلی اور بُرے آثار ہوں تو پھر بڑے مشکلات ہیں۔یہ بھی خدا کا بڑا رحم ہے جو اس مردود ملک پر طاعون کا تازیانہ بھیج دیا جس سے غفلت دور ہوتی ہے۔خدا کی سنّت ہے کہ جب انسان بہت ہی سخت دل ہو جاوے تو ایسے عذاب بھیج دیتا ہے۔انسان معمولی موت سے نہیں ڈرتا۔مگر اب جیسے ایک بڈھا اپنے آپ کو قریب بہ قبر سمجھتا ہے۔ویسے ہی بیس برس کا نوجوان بھی۔غفلت اور شہوات کا نشہ ایسی چیز ہے کہ جب معمولی موت سے انسان نے سبق نہ لیا تو طاعون بھیج دی جو عذاب کی شکل میں ہلاک کر رہی ہے۔اَلْاِسْتِفْتَاءُ مِنْ نَدْوَۃِ الْعُلَمَاءِ اس کے بعد مولانا مولوی ابو یوسف مبارک علی صاحب نے اپنا عربی قصیدہ سنایا جو مندرجہ حاشیہ عنوان سے اُنہوں نے دو تین گھنٹہ میں لکھا ہے۔جب وہ قصیدہ پڑھ چکے تو مولوی محمد علی صاحب سیالکوٹی نے پنجابی نظم سنائی اور بعد نماز عشاء دربار ختم ہوا۔۱ ۵؍اکتوبر ۱۹۰۲ء (صبح کی سیر) اشاعتِ کُتب نزول المسیح اور کشتی نوح کے متعلق تذکرہ پر فرمایا کہ کشتی نوح الگ بھی تقسیم ہو اور نزول المسیح کے ہمراہ بھی۔کیونکہ تقسیم کے وقت ہر ایک اپنی اپنی سمت الگ اختیار کرتا ہے۔دنیا میں یہ دونوں قوتیں جاذبہ اور مجذوبہ ہیں اور ان کا اثر بھی برابر جاری ہے۔اس لیے اس قسم کی تقسیم سے یہ فائدہ ہوگا کہ جو روحیں صرف تعلیم کی تلاش میں ہیں ان کی سیری اس تعلیم کو پڑھ کر ہو گی۔اور بعض روحیں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ ثبوت کی تلاش میں ہیں اُن کو نزول المسیح میں پورا ثبوت ملے گا