ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 12

۹؍جنوری ۱۹۰۲ء (بوقتِ سیر) ایک پرانا الہام ابتدائے جنوری ۱۹۰۲ء کو ایک عرب صا حب آئے ہوئے تھے۔بعض لوگ ان کے متعلق مختلف رائیں رکھتے تھے۔حضرت اقدس امام علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ۹؍جنوری کی شب کو اس کے متعلق الہا م ہوا قَدْ جَرَتْ عَادَۃُ اللہِ اَنَّہٗ لَا یَنْفَعُ الْاَمْوَاتَ اِلَّا الدُّعَاءُ اس وقت رات کے تین بجے ہوں گے۔حضرت اقدس فرما تے ہیں کہ اس وقت پر میں نے دعا کی تو یہ الہام ہوا فَکَلِّمْہُ مِنْ کُلِّ بَابٍ وَّلَنْ یَّنْفَعَہٗ اِلَّا ھٰذَا الدَّوَاءُ (اَیِ الدُّعَاءُ) اور پھر ایک اور الہا م اسی عرب کے متعلق ہواکہ فَیَتَّبِعُ الْقُرْآنَ۔اِنَّ الْقُرْآنَ کِتَا بُ اللہِ کِتَابُ الصَّادِقِ۔چنانچہ ۹ ؍ جنوری ۱۹۰۲ء کی صبح کو جب آپؑسیر کو نکلے توحضرت اقدس ؑنے عربی زبان میں ایک تقریر فرمائی۔جس میں سلسلہ محمدیہ اور موسویہ کی مشابہت کو بتایا اور پھر سورہ ٔنور کی آیتِ استخلاف اور سورۂ تحریم سے اپنے دعاوی پر دلائل پیش کیے اور قرآن شریف اور احادیث کے مراتب بتائے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ عرب صاحب جو پہلے بڑے جوش سے بو لتے تھے بالکل صاف ہو گئے اور انہوں نے صدقِ دل سے بیعت کی اور ایک اشتہار بھی شائع کیا اور بڑے جوش کے ساتھ ا پنے ملک کی طرف بغرض تبلیغ چلے گئے۔چونکہ یہ خدا تعالیٰ کا کلا م تھا ہم نے اس کی عزّت وعظمت کے لحاظ سے ضروری سمجھا کہ گو پرانا الہام ہے لیکن چونکہ آج تک یہ سلسلہ اشاعت میں نہیں آیا اس کو شا ئع کردیا جاوے۔نشانات کس سے صادر ہوتے ہیں؟ اس سوال کا جواب حضرت حجۃاللہ علیہ السلام نے ایک بار اپنی ایک مختصر سی تقریر میں دیاہے۔