ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 184

ملفوظات حضرت مسیح موعود ایک بچہ ابراہیم بھی تھا۔ ۱۸۴ جلد سوم جبکہ خدا تعالی نے یہ دو قسمیں رکھ دی ہیں اور یہ اس کی سنت ٹھہر چکی ہے اور یہ بھی اس نے فرمایا ہے لَن تَجِدَ لِسُنَةِ اللهِ تَبْدِيلًا (الفتح : ۲۴) پھر کس قدر غلطی ہے جو انسان اس کے خلاف چاہے۔ میں نے بار ہا بتایا ہے کہ انسان کے ساتھ خدا نے دوستانہ معاملہ رکھا ہے۔ کبھی ایک دوست دوسرے کی مان لیتا ہے اور کبھی اپنی منواتا ہے۔ اور دعا بندہ اور خدا میں بھاجی کی طرح ہیں ۔ اگر انسان یہ سمجھ لے کہ خدا تعالیٰ کمزور رعایا کی طرح ہر بات مان لے تو یہ نقص ہے۔ ماں بھی بچہ کی ہر بات نہیں مان سکتی ۔ کبھی بچہ آگ کی انگار یاں مانگتا ہے تو وہ کب دیتی ہے یا مثلاً آنکھیں دُکھتی ہوں تو اسے زنگ یا اور کوئی دوا ڈالنی ہی پڑتی ہے۔ اسی طرح پر بندہ چونکہ تکمیل کا محتاج ہے۔ اُسے ماروں کی ضرورت ہے تا کہ وہ صدق و وفا اور ثبات قدم میں کامل ثابت ہو۔ ہو۔جوذر پھر دعا کرانے والے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ صابر ہو۔ جلد باز نہ ہو۔ جو ذراسی بات پر دجال کہنے کو تیار ہے پس وہ کیا فائدہ اٹھائے گا۔ اسے تو چاہیے کہ صبر کے ساتھ انتظار کرے اور حُسنِ ظن سے کام لے۔ جب کہ خدا تعالیٰ نے لَنَبْلُونَكُمْ فرمایا ہے تو صبر کرنے والوں کے لیے بشارت دی اور اولیک عَلَيْهِمْ صَلَوت بھی فرمایا۔ میرے نزدیک اس کے یہی معنی ہیں کہ قبولیت دعا کی ایک راہ نکال دیتا ہے۔ حکام کا بھی یہی حال ہے کہ جس پر ناراض ہوتے ہیں اگر وہ صبر کے ساتھ برداشت کرتا اور شکوہ اور بدظنی نہیں کرتا تو اسے ترقی دیدیتے ہیں۔ قرآن شریف سے صاف پایا جاتا ہے کہ ایمان کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ ابتلا آویں جیسے فرمایا اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنکبوت : ۳) یعنی کیا لوگ خیال کرتے ہیں کہ صرف امنا کہنے سے چھوڑے جائیں اور وہ فتنوں میں نہ پڑیں۔ انبیاء علیہم السلام کو دیکھو اوائل میں کس قدر دکھ ملتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف دیکھو کہ آپ کو مکی زندگی میں کس قدر دکھ اٹھانے پڑے۔ طائف میں جب آپ گئے تو اس قدر آپ