ملفوظات (جلد 3) — Page 176
تحریروں میں لکھا جا چکا ہے۔اور ہم اس بات کو کیا کریں کہ یہ تاریخی غلطی مسلمانوں میں پیدا ہوئی ہے جو صحیح تاریخ سے ثابت ہے کہ مریم کا یوسف کے ساتھ نکاح ہو گیا تھا اور پھر اس سے اولاد بھی ہوئی تھی۔ہم نے تو اس اولاد کا ذکر کیا ہے۔اور اسی قسم کی غلطی واقعہ صلیب کے متعلق ہے۔مسیح کو صلیب دیئے جانے کے دردناک قصے موجود ہیں اور ان علماء کے نزدیک وہ چھت پھاڑ کر اُڑ گئے۔اب اس میں کس کا قصور ہے۔یہ تو ان کو بالکل خدا بنانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بشریت ان کے پاس نہ آجاوے۔اور ایسا ہی حضرت مریم کو ساری عمر بتول ٹھہرانا کہ انہوں نے نکاح نہیں کیا بڑی غلطی ہے۔ان تاریخی امور سے ہم انکارنہیں کر سکتے۔مسیح کی نسبت ہمارا یہی مذہب ہے کہ وہ بِن باپ پیدا ہوئے۔مریم علیہا السلام کی محصنہ ہونے کی حقیقت مولوی مبارک علی صاحب نے عرض کیا کہ حضور اس اَمر کی تائید میں کہ مریم علیہا السلام نے ساری عمر نکاح نہیں کیا یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ قرآن میں آیا ہے وَ الَّتِيْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا(الانبیآء:۹۲) فرمایا۔محصنات تو قرآن شریف میں خود نکاح والی عورتوں پر بولا گیا۔وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ(النِّسآء : ۲۵) اور اَلَّتِيْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا کے معنے تو یہ ہیں کہ اس نے زنا سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا۔یہ کہاں سے نکلا کہ اس نے ساری عمر نکاح ہی نہیں کیا۔مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مسیح کے آیۃ ُاﷲ ہونے میں کوئی خصوصیت نہیں ہے۔جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے وہ آیۃ اﷲ ہی ہوتا ہے۔براہین احمدیہ میں مجھے مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے لِنَجْعَلَكَ اٰيَةً۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بھی آیت تھے۔مسیح کی کوئی خصوصیت اس میں نہیں۔عُزیر بھی آیۃ ُاﷲ تھے۔مخالفوں کی طرف سے ہمارا حصہ ان مخالفوں کی طرف سے ہمارے حصہ میں تو گالیاں ہی آئی ہیں۔اب اس رسالہ کشتی نوح کو پڑھ کر بھی بہت سی باتیں بنائیں گے اور گالیاں دیں گے۔کوئی فریبی اور مکّار کہے گا۔کوئی کچھ۔