ملفوظات (جلد 3) — Page 174
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۴ جلد سوم پرندوں کا خالق بھی تھا۔ عالم الغیب اور شافی بھی تھا اور پھر یہ بھی مانتے ہیں کہ وہ صاف آسمان پر چلا گیا ان لوگوں سے پوچھنا چاہیے کہ اس کی موت کی خبر اور پیشگوئی کہاں ہے؟ حالانکہ قرآن شریف میں صاف لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ مسیح سے پوچھے گا کہ کیا تو نے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو خدا بنا لو تو حضرت مسیح اس سے اپنی بریت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں نے نہیں کہا اور پھر یہ کہتے ہیں فلما تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ انْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ (المائدة: ۱۱۸) لیکن اب ہم پوچھتے ہیں کہ جب کہ حضرت مسیح کو قیامت سے پہلے آسمان سے اترنا تھا تو پھر قیامت میں ان کا یہ جواب تو دروغ گویم بر روئے تو کا مصداق ہوتا ہے۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ یہ کہتے کہ یا اللہ تو نہیں جانتا کہ میں چالیس برس تک خنزیروں کو مارتا رہا ہوں اور صلیبوں کو توڑ تا رہا ہوں ۔ فلاں کا فر مارا۔ فلاں مشرک قتل کیا۔ فلاں صلیب پرست کا سر قلم کیا۔ یہ جواب ان کو تو دینا چاہیے تھا اب وہ جو اپنی لاعلمی ظاہر کرتے ہیں تو ہمارے مخالف بتائیں کہ کیا جھوٹ بولتے ہیں؟ شاید ان مخالفوں کے عقیدہ کے موافق انہوں نے جھوٹ ہی بولا ہوگا جب ہی تو اللہ تعالیٰ نے پھر آگے فرمایا قَالَ اللهُ هُذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصُّدِقِينَ صِدْقُهُمُ (المائدة: ۱۲۰) غرض سورة مائدہ کا آخری رکوع مسیح علیہ السلام کی وفات اور عدم نزول کے لئے عجیب ہے ۔ فتدبر !! یکم اکتوبر ۱۹۰۲ء (بوقت میر) حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام حسب معمول حلقہ خدام میں سیر کو نکلے ۔ حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب فاضل امروہی نے ایک مختصر سا انٹروڈکشن اپنی جدید تصنیف کا ( جو سائیں مہر شاہ گولڑی کے متعلق آپ لکھ رہے ہیں ) سنانا شروع کیا۔ جس میں سائیں جی کے سرقہ مضمون گفتہ اعجاز امسیح محمد حسن بھینی پر ایک لطیف ریویو کیا ہے اور اعجاز مسیح کا جواب با وجود سرقہ مضامین کے اردو زبان المسيح میں بشکل سیف چشتیائی لکھنے سے سائیں جی کی قلعی کھولی ہے کہ اس سے وہ الزام بھی سائیں جی پر قائم ہو گیا کہ عربی تفسیر نویسی کی دعوت میں واقعی لاجواب ہو گیا تھا اور اُسے کوئی قوت اور قابلیت نہیں جو حضرت مسیح موعود کے مقابلہ میں آتا، ورنہ کیا وجہ ہے کہ اعجاز لمسیح کا جواب اردو میں لکھا حالانکہ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۲ مورخه ۱۰ ستمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۱، ۱۲