ملفوظات (جلد 3) — Page 166
نے مجھے اصلاح کے لیے کھڑا کیا ہے۔پس اب اگر کوئی میرے ساتھ تعلق رکھ کر بھی اپنی حالت کی اصلاح نہیں کرتا اور عملی قوتوں کو ترقی نہیں دیتا بلکہ زبانی اقرار ہی کو کافی سمجھتا ہے۔وہ گویا اپنے عمل سے میری عدم ضرورت پر زور دیتا ہے۔پھر تم اگر اپنے عمل سے ثابت کرنا چاہتے ہو کہ میرا آنا بے سُود ہے تو پھر میرے ساتھ تعلق کرنے کے کیا معنے ہیں؟ میرے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہو تو میری اغراض اور مقاصد کو پورا کرو اور وہ یہی ہیں کہ خدا تعالیٰ کے حضور اپنا اخلاص اور وفاداری دکھائو اور قرآن شریف کی تعلیم پر اسی طرح عمل کرو جس طرح رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کرکے دکھایا اور صحابہ نے کیا۔قرآن شریف کے صحیح منشا کو معلوم کرو اور اس پر عمل کرو۔خدا تعالیٰ کے حضور اتنی ہی بات کافی نہیں ہو سکتی کہ زبان سے اقرار کر لیا اور عمل میں کوئی روشنی اور سرگرمی نہ پائی جاوے۔یاد رکھو کہ وہ جماعت جو خدا تعالیٰ قائم کرنی چاہتا ہے وہ عمل کے بدوں زندہ نہیں رہ سکتی۔یہ وہ عظیم الشّان جماعت ہے جس کی تیاری حضرت آدمؑ کے وقت سے شروع ہوئی ہے کوئی نبی دنیا میں نہیں آیا جس نے اس دعوت کی خبر نہ دی ہو۔پس اس کی قدر کرو اور اس کی قدر یہی ہے کہ اپنے عمل سے ثابت کر کے دکھائو کہ اہلِ حق کا گروہ تم ہی ہو۔سچا ہادی خیانت نہیں کر سکتا جو شخص خدا کی طرف سے مامور ہو کر آتا ہے اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی جماعت کی کمزوری کو دور کرے۔سچا ہادی کبھی خیانت نہیں کر سکتا۔اگر کوئی شخص ایسا ہو کہ جس طرز اور چال پر کوئی چلے خواہ اس کی زندگی اﷲ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف ہی ہو وہ پروا نہ کرے تو سمجھ لو کہ وہ خدا کی طرف سے اصلاح کے لیے نہیں آیا۔بلکہ شیطان اس کا قرین ہے۔سچا ہادی جو دیکھتا ہے اس کی اصلاح کرتا ہے۔ہاں یہ درست ہے کہ وہ کسی کی ذلّت اور رُسوائی نہیں کرنا چاہتا مگر مریض کے امراض کو شناخت کر کے ان کا علاج بتاتا ہے۔خدمتِ دین بھی عمر بڑھاتی ہے جو لوگ دین کے لیے سچا جوش رکھتے ہیں اُن کی عمر بڑھائی جاوے گی اور حدیثوں میں جو آیا ہے کہ مسیح موعود کے وقت عمریں بڑھادی جاویں گی اس کے معنے یہی مجھے سمجھائے گئے ہیں کہ جو لوگ خادمِ دین