ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 164

اس لیے جو نبی آتا ہے اس کی نبوت اور وحی و الہام کے سمجھنے کے لیے اﷲ تعالیٰ نے ہر شخص کی فطرت میں ایک ودیعت رکھی ہوئی ہے۔اور وہ ودیعت خواب ہے۔اگر کسی کو کوئی خواب سچی کبھی نہ آئی ہو تو وہ کیوں کر مان سکتا ہے کہ الہام اور وحی بھی کوئی چیز ہے۔اور چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا (البقرۃ : ۲۸۷) اس لیے یہ مادہ اس نے سب میں رکھ دیا ہے۔میرا یہ مذہب ہے کہ ایک بدکار اور فاسق فاجر کو بھی بعض وقت سچی رؤیا آجاتی ہے اور کبھی کبھی کوئی الہام بھی ہو جاتا ہے۔گو وہ شخص اس کیفیت سے کوئی فائدہ اُٹھاوے یا نہ اُٹھاوے۔جبکہ کافر اور مومن دونو کو سچی رؤیا آجاتی ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں فرق کیا ہے؟ عظیم الشان فرق تو یہ ہے کہ کافر کی رؤیا بہت ہی کم سچی نکلتی ہے اور مومن کی کثرت سے سچی نکلتی ہے۔گویا پہلا فرق کثرت اور قلّت کا ہے۔دوسرے مومن کے لیے بشارت کا حصہ زیادہ ہے جو کافر کی رؤیا میں نہیں ہوتا۔سوم۔مومن کو رؤیا مصفّا اور روشن ہوتی ہے بحالیکہ کافر کی رؤیا مصفّا نہیں ہوتی۔چہارم۔مومن کی رؤیا اعلیٰ درجہ کی ہو گی۔جماعت کے واعظین کی صِفات یہ اَمر بہت ضروری ہے کہ ہماری جماعت کے واعظ تیار ہوں لیکن اگر دوسرے واعظوں اور ان میں کوئی امتیاز نہ ہو تو فضول ہے۔یہ واعظ اس قسم کے ہونے چاہئیں جو پہلے اپنی اصلاح کریں اور اپنے چلن میں ایک پاک تبدیلی کرکے دکھائیں تا کہ ان کے نیک نمونوں کا اثر دوسروں پر پڑے۔عملی حالت کا عمدہ ہونا یہ سب سے بہترین وعظ ہے۔جو لوگ صرف وعظ کرتے ہیں مگر خود اس پر عمل نہیں کرتے وہ دوسروں پر کوئی اچھا اثر نہیں ڈال سکتے بلکہ اُن کا وعظ بعض اوقات اباحت پھیلانے والا ہو جاتا ہے۔کیونکہ سننے والے جب دیکھتے ہیں کہ وعظ کہنے والا خود عمل نہیں کرتا تو وہ ان باتوں کو بالکل خیالی سمجھتے ہیں۔اس لیے سب سے اوّل جس چیز کی ضرورت واعظ کو ہے وہ اُس کی عملی حالت ہے۔دوسری بات جو اُن واعظوں کے لیے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ان کو صحیح علم اور واقفیت ہمارے