ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 162

وقت نشان دکھاتے یا کہہ دیتے کہ میںآسمان پر اُڑجانے کا نشان تم کو دکھائوں گا۔اور صعود کے دن سب کو پکار کر کہہ دیتے کہ آئو اب دیکھ لو میں آسمان پر جاتا ہوں۔پھر جب اس قسم کا کوئی واقعہ یہودیوں نے نہیں دیکھا اور وہ اب تک ہنسی اُڑاتے ہیں اور خطر ناک اعتراض کرتے ہیں تو یہ غرض بھی ثابت نہ ہوئی۔مسیح علیہ السلام کے مقابلہ میں ہمارے نشانوں کو دیکھو کہ کیسے واضح اور صاف ہیں اور لاکھوں انسان اُن میں سے بعض کے گواہ ہیں۔براہین احمدیہ میں یہ الہام ۲۲ برس سے زیادہ عرصہ ہوا ہے درج ہے یَاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ اور یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔اب اس کی بابت محمد حسین ہی سے پوچھو کہ جب اس نے براہین احمدیہ پر ریویو لکھا تھا کس قدر لوگ یہاں آتے تھے اور کہاں سے آتے تھے۔اور اب تو آنے والے لوگوں کی بابت ہم سے دریافت کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔پولیس کا ایک کانسٹیبل یہاں رہتا ہے جو آنے والے مہمانوں کی ایک فہرست تیار کر کے اپنے افسروں کے پاس بھیجا کرتا ہے۔ان کے کاغذات کو جاکر کوئی دیکھ لے تو اُسے معلوم ہو جاوے گا کہ یہ پیشگوئی کس شان اور عظمت سے پوری ہو رہی ہے یہاں تک کہ ہر شخص آنے والا اس پیشگوئی کو پورا کرتا ہے۔اسی طرح اس کا دوسرا حصہ یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔دیکھ لو کہاں کہاں سے تحفے تحائف چلے آتے ہیں اور روپیہ آتا ہے اس کے لیے بھی ڈاک خانہ کے کاغذات اور محکمہ ریلوے کے رجسٹر شہادت کے لیے کافی ہو سکتے ہیں۔اب ان نشانوں کا ذرا مسیح کے نشانوں سے مقابلہ تو کر کے دکھائو۔وہاں تو یہودی دُہائی دیتے ہیں کہ ہم نے کچھ بھی نہیں دیکھا۔اگر یہودی دیکھتے تو کیوں انکار کرتے اور یہاں مخالف تک اس بات کے گواہ ہیں اور صد ہانشان اس قسم کے ہیں جن کو اگر تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاوے تو کئی کتابوں کی ضرورت پڑے۔تیسرا شِق مسیح کے صعود کے متعلق یہ ہو سکتا ہے کہ ان کی غرض فرار کی تھی۔یہ بالبداہت باطل ہے کیا زمین پر کوئی جگہ نہ تھی۔اور ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ (البقرۃ : ۶۲) کے مصداق یہودیوں سے پھر اتنا خوف ہوا کہ پہلے آسمان پر بھی نہ ٹھہر سکے۔غرض جس پہلو سے اس مسئلہ کو دیکھا