ملفوظات (جلد 3) — Page 147
نہ دیکھے تھے مگر بتائو کہ اُن میں وہ تقویٰ، وہ خدا ترسی اور نیکی جو حضرت موسیٰ چاہتے تھے کامل طور پر پیدا ہوئی آخر ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ ( البقرۃ : ۶۲) کے مصداق وہ قوم ہو گئی۔پھر حضرت مسیح کے معجزات دیکھنے والے لوگوں کو دیکھو کہ اُن میں کہاں تک نیکی اور پرہیز گاری اور وفاداری کے اصولوں کی رعایت تھی۔اُن میں سے ہی ایک اٹھا اور اے ربّی !تجھ پر سلام کہتے ہوئے پکڑوادیا۔اور دوسرے نے سامنے لعنت کی۔ان ساری باتوں کو دیکھ کر پھر سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے جو انسان کو واقعی گناہ سے روک سکتی ہے؟ میرے نزدیک خدا تعالیٰ کا خوف اور خشیت ایسی چیز ہے جو انسان کی گناہ کی زندگی پر موت وارد کرتی ہے۔جب سچا خوف دل میںپیدا ہوتا ہے تو پھر دعا کے لیے تحریک ہوتی ہے اور دعا وہ چیز ہے جو انسان کی کمزوریوں کا جبرِ نقصان کرتی ہے۔اس لیے دعا کرنی چاہیے۔خدا تعالیٰ کا وعدہ بھی ہے اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : ۶۱) بعض وقت انسان کو ایک دھوکا لگتا ہے کہ وہ عرصہ دراز تک ایک مطلب کے لیے دعا کرتا ہے اور وہ مطلب پورا نہیں ہوتا تب وہ گھبرا جاتا ہے، حالانکہ گھبرانا نہ چاہیے بلکہ ’’طلبگار باید صبور و حمول‘‘ دعا تو قبول ہو جاتی ہے لیکن انسان کو بعض دفعہ پتہ نہیں لگتا۔کیونکہ وہ اپنے دعا کے انجام اور نتائج سے آگاہ نہیں ہوتا اور اﷲ تعالیٰ جو عالم الغیب ہے اس کے لیے وہ کرتا ہے جو مفید ہوتا ہے۔اس لیے نادان انسان یہ خیال کر لیتا ہے کہ میری دعا قبول نہیں ہوئی حالانکہ اس کے لیے اﷲ تعالیٰ کے علم میں یہی مفید تھا کہ وہ دعا اس طرح پر قبول نہ ہو بلکہ کسی اور رنگ میں ہو۔اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک بچہ اپنی ماں سے آگ کا سرخ انگارہ دیکھ کر مانگے تو کیا دانش مند ماں اُسے دیدے گی؟ کبھی نہیں۔اسی طرح پر دعا کے متعلق بھی ہوتا ہے۔غرض دعائیں کرنے سے کبھی تھکنا نہیں چاہیے۔دعا ہی ایسی چیز ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک قوت اور نور عطا کرتی ہے جس سے انسان بدی پر غالب آجاتاہے۔صداقت کے دلائل اور نشانات مجھے بارہا اس اَمر کا خیال آیا ہے کہ ہماری جماعت یہ افسوس نہیں کر سکتی کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے کچھ نہیں دکھایا