ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 135

لگتا ہے۔وَكَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا (الکہف : ۸۳) اس باپ کی نیکی اور صلاحیت کے لیے خضر اور موسیٰ جیسے اولوا العزم پیغمبر کو مزدور بنا دیا کہ وہ ان کی دیوار درست کردیں۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس شخص کا کیا درجہ ہوگا۔خدا تعالیٰ نے لڑکوں کا ذکر نہیں کیا چونکہ ستّار ہے۔اس لیے پر دہ پوشی کے لحاظ سے اور باپ کے محلِ مدح میں ذکر ہونے کی وجہ سے کوئی ذکر نہیں کیا۔پہلی کتابوں میں بھی اس قسم کامضمون آیا ہے کہ سات پُشت تک رعایت رکھتا ہوں۔حضرت دائود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی متقی کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے نہیں دیکھا۔غرض نشاط خدا کا رزق ہے جو غیر کو نہیں ملتا۔۱ ۱۸؍اگست ۱۹۰۲ء (بوقتِ شام) بیعت کی حقیقت مرزا اعظم بیگ کے پوتے مرزا احسن بیگ نے بیعت کی درخواست کی۔اس پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔بیعت اگلے جمعہ کو کر لینا مگر یہ یاد رکھو کہ بیعت کے بعد تبدیلی کرنی ضروری ہوتی ہے۔اگر بیعت کے بعد اپنی حالت میں تبدیلی نہ کی جاوے تو پھر یہ استخفاف ہے۔بیعت بازیچہءِ اطفال نہیں ہے۔درحقیقت وہی بیعت کرتا ہے جس کی پہلی زندگی پر موت وارد ہو جاتی ہے اور ایک نئی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ہر ایک اَمر میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔پہلے تعلقات معدوم ہو کر نئے تعلقات پیدا ہوتے ہیں۔جب صحابہؓ مسلمان ہوتے تو بعض کو ایسے امور پیش آتے تھے کہ احباب رشتہ دار سب سے الگ ہونا پڑتا تھا۔حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ابو جہل کے ساتھ اسلام سے پہلے ملتے تھے۔بلکہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ابو جہل نے منصوبہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا خاتمہ کر دیا جاوے اور کچھ روپیہ بھی بطور انعام مقرر کیا۔حضرت عمر اس کام کے لیے منتخب ہوئے، چنانچہ انہوں نے اپنی تلوار کو تیز کیا اور موقع کی تلاش میں رہے۔آخر حضرت عمر کو پتہ ملا کہ آدھی رات کو آپ کعبہ میں