ملفوظات (جلد 3) — Page 134
یہ سچ ہے کہ بہشتی زندگی بھی ہوتی ہے مگر اُن کی جن کو خدا پر پورا بھروسہ ہوتا ہے۔اس لیے وہ هُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ (الاعراف :۱۹۷) کے وعدہ کے موافق خدا تعالیٰ کی حفاظت اور تولّی کے نیچے ہوتے ہیں اور جو خدا تعالیٰ سے دور ہے اس کا ہر دن ترساں و لرزاں ہی گزرتا ہے وہ خوش نہیں ہو سکتا۔سیالکوٹ میں ایک شخص رشوت لیا کرتا تھا۔وہ کہا کرتا تھا کہ میں ہر وقت زنجیر ہی دیکھتا ہوں۔بات یہ ہے کہ بُرے کام کا انجام بد ہی ہونا چاہیے۔اس لیے بدی ایسی چیز ہے کہ روح اس پر راضی ہو ہی نہیں سکتی۔پھر بدی میں لذت کہاں؟ ہر بُرے کام پر آخر دل پر ٹھوکر لگتی ہے اور ایک کثافت انسان محسوس کرتا ہے کہ یہ کیا حماقت کی اور اپنے اوپر لعنت کرتا ہے۔ایک شخص نے بارہ آنے کے عوض میں ایک بچہ مار دیا تھا۔غرض زندگی بجز اس کے کوئی نہیں کہ بدی سے بچے اور خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔کیونکہ مصیبت سے پہلے جو خدا پر بھروسہ کرتا ہے مصیبت کے وقت خدا اس کی مدد کرتا ہے۔جو پہلے سویا ہوا ہے وہ مصیبت کے وقت ہلاک ہو جاتا ہے۔حافظ نے کیا اچھا کہا ہے۔شعر ؎ خیال زلف تو جستن نہ کار خامان است کہ زیرِ سلسلہ رفتن طریق عیاری است خدا تعالیٰ غنی ہے۔بیکانیر و غیرہ میں جو قحط پڑے تو لوگ بچوں تک کو کھا گئے۔یہ اسی لیے ہوا کہ وہ کسی کے ہو کر نہیں رہے۔خدا کے ہو کر رہتے تو بچوں پر یہ بلا نہ آتی۔حدیث شریف اور قرآن مجید سے ثابت ہے اور ایسا ہی پہلی کتابوں سے بھی پایا جاتا ہے کہ والدین کی بدکاریاں بچوں پر بھی بعض وقت آفت لاتی ہیں۔اسی کی طرف اشارہ ہے وَ لَا يَخَافُ عُقْبٰهَا (الشّمس : ۱۶)۔جو لوگ لا اُبالی زندگی بسر کرتے ہیں اﷲ تعالیٰ ان کی طرف سے بے پروا ہو جاتا ہے۔دیکھو! دنیا میں جو اپنے آقا کو چند روز سلام نہ کرے تو اس کی نظر بگڑ جاتی ہے تو جو خدا سے قطع کرے پھر خدا اس کی پروا کیوں کرے گا۔اسی پر وہ فرماتا ہے کہ وہ اُن کو ہلاک کر کے اُن کی اولاد کی بھی پروا نہیں کرتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو متقی صالح مَر جاوے اس کی اولاد کی پروا کرتا ہے جیسا کہ ا س آیت سے بھی پتہ