ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 133

صحت اچھی نہیں۔مثلاًمعدہ خراب ہے تو وہ کیا بہشتی زندگی ہوگی۔اس سے معلوم ہوا کہ مال بھی راحت کا باعث نہیں۔سچی بات یہی ہے کہ جو خدا سے تعلق رکھتا ہے وہی ہر پہلو سے بہشتی زندگی رکھتا ہے کیونکہ اﷲ قادر ہے کہ وہ بلائیں اور آفتیں نہ آئیں اور مالی اضطرار بھی نہ ہو۔یا آئیں تو دل میں ایسی قوت اور ہمت بخش دے کہ وہ اُن کا پورا مقابلہ کر سکے۔جس قدر پہلو انسان کی عافیت کے لیے ضروری ہیں وہ کسی بادشاہ کے بھی ہاتھ میں نہیں ہیں بلکہ وہ سب ایک ہی کے ہاتھ میں ہے جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے جسے چاہے دیدے۔بعض لوگ اس قسم کے دیکھے گئے ہیں کہ روپیہ پیسہ سب کچھ موجود ہے مگر مسلُول مدقُوق ہو جاتے ہیں اور زندگی انہیں تلخ معلوم ہوتی ہے۔پس ان کروڑوں آفات کا جو انسان کو لگی ہوئی ہیں کون بندوبست کر سکتا ہے اور اگر رنج بھی ہو تو صبر جمیل کون دے سکتا ہے؟ اﷲ ہی ہے جو عطا کرے۔صبر بھی بڑی چیز ہے جو بڑی بڑی آفتوں اور مصیبتوں کے وقت بھی غم کو پاس نہیں آنے دیتا۔بعض امیر ایسے ہوتے ہیں کہ عافیت اور راحت کے زمانہ میں بڑے مغرور اور متکبّر ہوتے ہیں اور ذرا رنج آگیا تو بچوں کی طرح چلّا اٹھے۔اب ہم کس کا نام لے سکتے ہیں کہ اس پر حوادث نہ آئیں اور متعلّقین کو رنج نہ پہنچے؟ کسی کا نام نہیں لے سکتے۔یہ بہشتی زندگی کس کی ہو سکتی ہے۔صرف اُس شخص کی جس پر خدا کا فضل ہو۔بہشتی زندگی اس لیے یہ بڑی غلطی ہے جو یونہی کسی کے سفید کپڑے دیکھ کر کہہ دیتے ہیں کہ وہ بہشتی زندگی رکھتے ہیں۔اُن سے جا کر پوچھو تو معلوم ہو کہ کتنی بلائیں سناتے ہیں۔صرف کپڑے دیکھ کر یا بگیوں پر سوار ہوتے دیکھ کر شراب پیتے دیکھ کر ایسا خیال کر لینا غلط ہے۔ماسوا اس کے اباحتی زندگی بجائے خود جہنم ہے۔کوئی ادب اور تعلق خدا سے نہیں۔اس سے بڑھ کر جہنمی زندگی کیا ہوگی۔کتا خواہ مُردار کھالے خواہ بدکاری کرے کیا وہ بہشتی زندگی ہوگی؟ اسی طرح پر جو شخص مُردار کھاتا ہے اور بدکاریوں میں مبتلا ہے، حرام و حلال کے مال کو نہیں سمجھتا یہ لعنتی زندگی ہے، اس کو بہشتی زندگی سے کیا تعلق؟