ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 132

پر بھروسہ نہیں اور ان کے پاس روپیہ تھا وہ چوری چلا گیا۔اس کے ساتھ ہی زبان بند ہو گئی۔اور اُن (کفّار) کو جو بہشت میں کہا جاتا ہے اُن کی خود کشیوں کو دیکھو کہ کس قدر کثرت سے ہوتی ہیں۔تھوڑی تھوڑی باتوں پر خود کشی کر لیتے ہیںجس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایسے ضعیف القلب اور پست ہمت ہوتے ہیں کہ غم کی برداشت ان میں نہیں ہے۔جس کو غم کی برداشت اور مصیبت کے مقابلہ کی طاقت نہیں اس کے پاس راحت کا سامان بھی نہیں ہے۔خواہ ہم اس کو سمجھا سکیں یا نہ سمجھا سکیں اور کوئی سمجھ سکے یا نہ سمجھ سکے۔حقیقت الامر یہی ہے کہ لذائذ کامزہ صرف تقویٰ ہی سے آتا ہے۔جو متقی ہوتا ہے اس کے دل میں راحت ہوتی ہے اور ابدی سرور ہوتا ہے۔دیکھو! ایک دوست کے ساتھ تعلق ہو توکس قدر خوشی اور راحت ہوتی ہے لیکن جس کا خدا سے تعلق ہو اُسے کس قدر خوشی ہو گی۔جس کا تعلق خدا سے نہیں ہے اُسے کیا امید ہو سکتی ہے اور امید ہی تو ایک چیز ہے جس سے بہشتی زندگی شروع ہوتی ہے۔ان مہذب ممالک میں اس قدر خود کشیاں ہوتی ہیں کہ جن سے پایا جاتا ہے کہ کوئی راحت نہیں۔ذرا راحت کامیدان گم ہوا اور جھٹ خود کشی کر لی لیکن جو تقویٰ رکھتا ہے اور خدا سے تعلق رکھتا ہے اُسے وہ جا ودانی خوشی حاصل ہے جو ایمان سے آتی ہے۔دنیا کی تمام چیزیں معرض تغیّر وتبدّل میں ہیں۔مختلف آفات آتی رہتی ہیں۔بیماریاں حملے کرتی ہیں۔کبھی بچےمَر جاتے ہیں۔غرض کوئی نہ کوئی دکھ یا تکلیف رہتی ہے اور دنیا جائے آفات ہے اور یہ امور سُکھ کی نیند انسان کو سونے نہیں دیتے۔جس قدر تعلقات وسیع ہوتے ہیں اسی قدر آفتوں اور مصیبتوں کامیدان وسیع ہوتا ہے اور یہ آفتیں اور بلائیں انسان کے منزلی تعلقات میں ایک غم کو پچاس بنا دیتی ہیں۔کیونکہ اگر اکیلا ہو تو غم کم ہو مگر جب بچے،بیوی،ماں باپ،بہن بھائی اور دوسرے رشتہ دار رکھتا ہے تو پھر ذرا سی تکلیف ہوئی اور یہ آفت میں پڑا۔اس قدر مجموعہ کے ساتھ تو اُس وقت راحت ہو سکتی ہے جب کسی کو کوئی بیماری اور آفت نہ ہو اور کوئی تکلیف میں نہ ہو۔صرف مال موجبِ راحت نہیں ہے یہ بات بھی غلط ہے کہ مال سے راحت ہو۔نرے مال سے راحت نہیں ہے۔اگر مال ہے