ملفوظات (جلد 3) — Page 130
جملہ معترضہ یہاں حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب نے عرض کی کہ جب میں پہلے پہل یہاں آیا تو حضور علاماتُ المقربین ایک رسالہ لکھ رہے تھے۔واپسی پر گجرات ٹھہرا تو ایک شخص نے مجھ سے دریافت کیا کہ آج کل مرزا صاحب کیا لکھ رہے ہیں۔میں نے کہا کہ اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍ (الانفطار : ۱۴) کی تفسیر لکھ رہے ہیں۔اس نے کہا کہ یہ کفار آرام میں نہیں؟ سارا دن بگھیاں چلتی رہتی ہیں۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ آپ کے اس آیت کے پڑھنے سے ایک اور آیت یاد آگئی وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ(الرّحـمٰن : ۴۷)۔غرض یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں مگر تجربہ دلالت کرتا ہے کہ یہ امور خدا کی طرف منسوب نہیں ہو سکتے۔ہمارا یہ مذہب ہے کہ وہ وعدے جو خدا تعالیٰ نے کئے ہیں کہ متقیوں کو خود اﷲ تعالیٰ رزق دیتا ہے جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے ان آیتوں میں بیان کیا ہے یہ سب سچ ہیں۔اور سلسلہ اہل اﷲ کی طرف دیکھا جاوے تو کوئی ابرار میں سے ایسا نہیں ہے کہ بھو کا مَرا ہو۔مومنوں نے جن پر شہادت دی اور جن کو اتقیامان لیا گیا ہے۔یہی نہیں کہ وہ فقروفاقہ سے بچے ہوئے تھے۔گو اعلیٰ درجہ کی خوشحالیاں نہ ہوں مگر اس قسم کا اضطراری فقروفاقہ بھی کبھی نہیں ہوا کہ عذاب محسوس کریں۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فقراختیار کیا ہوا تھا۔مگر آپ کی سخاوت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خود آپؐنے اختیار کیا ہوا تھا، نہ کہ بطور سزا تھا۔غرض اس راہ میں بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں۔بعض لوگ ایسے دیکھے جاتے ہیں کہ بظاہر متقی اور صالح ہوتے ہیں مگر رزق سے تنگ ہوتے ہیں۔ان سب حالات کو دیکھ کر آخر یہی کہنا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدے تو سب سچ ہیں لیکن انسانی کمزوری ہی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔یورپ کی پُرآسائش زندگی جنّت نہیں حضرت مولانا مولوی حکیم نورالدین صاحب نے پھر ذکر کیا کہ لندن سے ایک شخص نے مجھے خط لکھا کہ لندن آکر دیکھو کہ جنّت عیسائیوں کو حاصل ہے یا مسلمانوں کو۔میں نے اس کو جواب لکھا کہ