ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 129

پھر فرمایا کہ انگریزبھی کبوترکاشکار کرتے ہیں اور بنی اسرائیل کی قربانیوں میں بھی شاید اس کا تذکرہ ہے۔بہر حال کبوتر ہمیشہ کھائے جاتے ہیں یادوسرے الفاظ میں یہ کہو کہ عیسائیوں کے خداذبح ہوتے ہیں۔کیا یہ بھی کفارہ تو نہیں ہے۔۱ ۱۶؍اگست ۱۹۰۲ء (بوقتِ شام) رزق میں قبض و بسط حضرت جریُّ اللہ فی حلل الانبیا ء علیہ الصلوٰۃ والسلام بعد ادائے نماز مغرب حسب معمول حلقہ خدام میں بیٹھ گئے کسی شخص نے ایک رقعہ دیا جو دفترمیگزین میں محرّر کی آسامی کے لیے سفارش کی خواہش پر مشتمل تھا۔حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ قبض، بسط رزق کا سِر ایسا ہے کہ انسان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ایک طرف تو مومنوں سے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں وعدے کئے ہیں مَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ (الطّلاق:۴) یعنی جو اللہ تعالیٰ پر توکّل کر تا ہے اس کے لیے اللہ کافی ہے مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطّلاق:۳،۴) جو اللہ تعالیٰ کے لئے تقو یٰ اختیار کر تا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے کہ اس کو معلوم بھی نہیں ہوتا۔اور پھر فر ماتا ہے وَفِي السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ (الذّاریٰت:۲۳) اور پھر اللہ تعالیٰ اپنی ذات کی قسم کھا تا ہے کہ فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ (الذّاریٰت:۲۴) آسمان و زمین کے ربّ کی قسم ہے کہ یہ وعدہ سچ ہے۔جیسا کہ تم اپنی زبان سے بو ل کر انکار نہیں کرسکتے جب کہ اس قسم کے وعد ے اللہ تعالیٰ نے فر مائے ہیں۔پھر باوجود ان وعدوں کے دیکھا جاتا ہے کہ کئی آدمی ایسے دیکھے جاتے ہیں جو صالح اور متقی نیک بخت ہوتے ہیں اور ان کا شعائرِ اسلام صحیح ہوتا ہے مگر وہ رزق سے تنگ ہیں۔رات کو ہے تو دن کو نہیں اور دن کو ہے تورات کو نہیں۔