ملفوظات (جلد 3) — Page 128
کے خدا کی نسبت ترازو کے ایک پلّہ میں رکھ دی جاوے اور میری نفرت ایک طرف تو میرا پلّہ اس سے بھاری ہوگا۔اور میں ایسے شخص کو جو عورت کے پیٹ سے نکل کر خدا ہونے کا دعویٰ کرے بہت ہی بڑاگناہ گار اور ناپاک انسان سمجھتاہوں۔مگر ہاں میرا یہ مذہب ہے کہ مسیح ابنِ مریم رسول اِس اِلزام سے پاک ہے، اس نے کبھی یہ دعویٰ نہیںکیا، میں اسے اپنا ایک بھائی سمجھتا ہوں، اگر چہ خدا تعالیٰ کا فضل مجھ پر اس سے بہت زیادہ ہے اور وہ کام جو میرے سپرد کیا گیا ہے اس کے کام سے بہت ہی بڑھ کر ہے۔تاہم میں اس کو اپنا ایک بھائی سمجھتا ہوں۔اور میں نے اسے بارہادیکھاہے۔ایک بار میں نے اور مسیحؑ نے ایک ہی پیالہ میں گائے کاگوشت کھایا تھا، اس لیے میں اور وہ ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے ہیں۔غرض اس طرح پر حضرت حجۃاللہ نے بلحاظ اپنے کام اور ماموریت کے اور خدا تعالیٰ کے ان فضلوں اور احسانوں کے جو حضرت مسیح موعود کے شاملِ حال ہیں تحدیث بِالنِّعْمَت اور تبلیغ کے طور پر ذکر فرمایا اور یہاں تک کہا کہ ’’میں خدا سے ہوں اور مسیح مجھ سے ہے۔‘‘ ان امور کے پیش کرنے کے بعد آپ نے پھر پُر شوکت تحدّی کے ساتھ اُس کو مقابلہ کے لیے دعوت کی ہے کہ اگر وہ سچا ہے تو اسے چاہیے میرے مقابلہ میں نکلے اور یہ دعاکرے کہ ہم دونوں میںسے جو کاذب ہے وہ صادق کے سامنے ہلاک ہو۔یہ خلاصہ ہے اس تتمہ کا جو ہم نے اپنے طور پر لکھا ہے۔اصل چٹھی ستمبر کے اخیر تک انشاء اللہ شائع ہوسکے گی۔آج کی ڈائری میں ایک اَمر ہم نے فروگذاشت کیا تھا۔اسے یہاں درج کر دینا قرینِ مصلحت معلوم ہوتاہے۔حضرت صاحبزادہ مبارک احمد سَلَّمَہُ اللہُ الْاَحَدُ کے ایک کبوتر کو بلّی نے پکڑا جو ذبح کرلیاگیا۔فرمایا کہ اس وقت میرے دل میں تحریک ہوئی کہ گویا عیسائیوںکے خدا کو ہم نے ذبح کر کے کھالیا ہے۔