ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 127

ہو مثلاً سلبِ امراض کا طریق ہے۔جس پرڈاکٹرڈوئی اپنے اخبار میں لاف زنی کیا کرتا ہے کہ فلاں شخص اچھاہوگیا اور فلاں نے صحت پائی۔یہ طریق اس قسم کا ہے کہ اس کے لیے راستبازاور متقی ہونے کی بھی ضرورت نہیں۔چہ جائیکہ یہ کسی کے مامور ہونے پر گواہ ہوسکے کیونکہ سلبِ امراض کا طریق ہندوؤں، یہودیوں، عیسائیوں میںیکساں پایا جاتا ہے اورمسلمانوں میں بھی بعض لوگ اس قسم کے پائے جاتے ہیں۔حضرت مسیحؑ جب سلبِ امراض کے معجزات دکھاتے تھے اس وقت بعض یہودی بھی اس قسم کے کام کرتے تھے اور ایک تالاب بھی ایساتھا جس میں غسل کرنے سے بعض مریض اچھے ہوجاتے تھے۔غرض حضرت حجۃاللہ نے پہلے اس میںیہ ظاہر کیا ہے کہ جو اَمر مختلف قوموں میں مشترک ہے اور جس کے لیے نیک و بد کی کوئی تمیز نہیں صادق اور کاذب کی شناخت کامعیار نہیںہوسکتا۔پھر اس اَمر پر بحث کی ہے کہ اس کی ایک صورت ہے کہ کچھ بیمار لے کر بطور قرعہ اندازی صادق اور کاذب کو تقسیم کردئیے جاویں ایسی صورت میں صادق کے حصہ کے مریض بمقابلہ کاذب زیادہ اچھے ہوں گے۔اس اَمرکے بیان میں یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اس طریق کو اپنے ملک میں اپنے مخالفوںکے سامنے مَیں نے پیش کیا ہے مگر کوئی مقابلہ کے لیے نہ آیا۔پھر حضرت اقدس نے ڈوئی کی اس تحدّی پر بحث کی ہے جو اس نے اپنے مخالفوں کے لیے کی ہے کہ میرے مخالف ہلاک ہو جائیں گے خصوصاً مسلمان۔حضرت حجۃ اللہ نے بڑے پُر زور اور پُرشوکت الفاظ میںلکھاہے کہ کُل مسلمانوں کو ہلاک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اور علاوہ ازیں یہ اَمر مشکوک ہو سکتا ہے۔اس کو یہ کہنے کی گنجائش ہے کہ مسلمان ہلاک تو ہوہی جائیں گے مگر پچاس یا ساٹھ سال کے اندر۔اور وہ خود اس عرصہ میں ہلاک ہوجائے گا۔پھر کون اس سے پوچھنے والاہوگا۔اس لیے بہترہے کہ سارے مسلمانوں کو چھوڑ کر میرے مقابلہ میں آئے اور میںعیسائیوں کے خود ساختہ خدا کی نسبت تمام مسلمانوں سے زیادہ کراہت اور نفرت رکھتا ہوں۔یہاں تک کہ اگر کُل مسلمانوں کی نفرت عیسائیوں