ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 126

فرمایا کہ کسی وقت کا اخلاص اور خدمت انسان کے کام آجاتاہے۔شاید ان وقتوں کاا خلاص ہی ہو جو بالآخرمولو ی محمد حسین صاحب کو اس سلسلہ کی طرف رجوع کرنے کی توفیق دے کیونکہ وہ بہت ٹھوکریں کھاچکے ہیں اورآخر دیکھ چکے ہیں کہ خدا کے کاموں میں کوئی حارج نہیںہوسکتا۔فرمایا۔ایسا ہی اجتہادی طور پر ہمیں بعض لوگوں پر بھی حُسن ظن ہے کہ وہ کسی وقت رجوع کریں گے کیونکہ ایک دفعہ الہام ہواتھا کہ ’’لاہور میں ہمارے پاک محبّ ہیں، وسوسہ پڑگیا ہے پر مٹی نظیف ہے، وسوسہ نہیں رہے گا۔مٹی رہے گی۔‘‘ اس کے بعد چند مختلف باتیں ہو کر نماز عشاء ادا کی گئی۔۱۳؍ اگست ۱۹۰۲ء (بوقتِ شام) نماز مغرب کے بعد حضرت اقدس نے کل کی تجویز کی تکمیل کے لیے فرمایاکہ مخالفین کے لیے اہم اعتراضات جمع کر لینے کا ارشاد بہت ہی بہتر ہو کہ اگر مخالفین کی کل کتابیں جمع کر کے اُن کے اہم اعتراضات کو یکجا کر لیا جاوے، تا کہ ان کا جواب بھی ہماری اس کتاب میں آجاوے اور یہ کتاب تمام مسائل کی جامع ہو جاوے۔اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب نے اس چٹھی کے مضمون کا تتمہ پڑھ کر سنایا جو امریکہ کے مشہور کاذب، مفتری الیاس ڈاکٹر ڈوئی کے نام مقابلہ کے لیے لکھی گئی ہے۔خلاصہ تتمہ چٹھی بنام الیاس ڈاکٹر ڈوئی اس تتمہ کا خلاصہ یہ ہے حضرت اقدسؑ نے اس میںلکھا ہے کہ صادق اور کاذب کی شناخت کامعیاروہ اَمر کبھی نہیںہوسکتا جو مختلف قوموںمیں بطور اَمر مشترک