ملفوظات (جلد 3) — Page 114
مغضوب سے مُراد بالاتفاق یہود ہیں اور ضالین سے نصاریٰ۔اب تو سیدھی بات ہے کہ کوئی دانش مند باپ بھی اپنی اولاد کو وہ تعلیم نہیں دیتا جو اس کے لیے کام آنے والی نہ ہو۔پھر خدا تعالیٰ کی نسبت یہ کیوں کر روارکھ سکتے ہیں کہ اس نے ایسی دعا تعلیم کی جو پیش آنے والے امور نہ تھے؟ نہیں بلکہ یہ امور سب واقعہ ہونے والے تھے۔مغضوب سے مُراد یہود ہیں اور دوسری طرف رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُمّت کے بعض لوگ یہودی صفت ہو جائیں گے۔یہاں تک کہ ان سے تشبّہ اختیار کریں گے کہ اگر یہودی نے ماں سے زنا کیا ہو تو وہ بھی کریں گے۔اب وہ یہودی جو خدا تعالیٰ کے عذاب کے نیچے آئے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے اُن پر لعنت پڑی تھی۔اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں یہ سب واقعات پیش آئیں گے۔وہ وقت اب آگیا ہے۔میری مخالفت میں یہ لوگ ان سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں رہے۔رشوت کی تعریف اس کے بعد حضرت مولانا نورالدین صاحب نے عرض کی کہ حضور ایک سوال اکثر آدمی دریافت کرتے ہیں کہ اُن کو بعض وقت ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ جب تک وہ کسی اہلکار وغیرہ کو کچھ نہ دیں اُن کا کام نہیں ہوتا اور وہ تباہ کر دیتے ہیں۔فرمایا۔میرے نزدیک رشوت کی یہ تعریف ہے کہ کسی کے حقوق کو زائل کرنے کے واسطے یا ناجائز طور پر گورنمنٹ کے حقوق کو دبانے یا لینے کے لیے کوئی مابہ الاحتظاظ کسی کو دیا جائے لیکن اگر ایسی صورت ہو کہ کسی دوسرے کا اس سے کوئی نقصان نہ ہو اور نہ کسی دوسرے کا کوئی حق ہو صرف اس لحاظ سے کہ اپنے حقوق کی حفاظت میں کچھ دے دیا جاوے تو کوئی حرج نہیں اور یہ رشوت نہیں بلکہ اس کی مثال ایسی ہے کہ ہم راستہ پر چلے جاویں اور سامنے کوئی کتا آجاوے تو اس کو ایک ٹکڑا روٹی کا ڈال کر اپنے طور پر جاویں اور اس کے شر سے محفوظ رہیں۔استفتاءِ قلب اس پر حضرت حکیم الامت نے عرض کی کہ بعض معاملات اس قسم کے ہوتے ہیں کہ پتا ہی نہیں لگتا کہ اصل میں حق پر کون ہے۔فرمایا۔ایسی صورتوں میں استفتاءِ قلب کافی ہے۔اس میں شریعت کا حصہ رکھا گیا ہے۔میں نے