ملفوظات (جلد 3) — Page 113
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۳ جلد سوم مد نظر رکھے جو بیعت سے ہیں ۔ یہ امور کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہو جاوے اصل منشا اور مدعا سے دور ہیں ۔ انسان کا اصل منشا یہ ہر گز نہیں ہونا چاہیے۔ قرآن شریف میں بھی یہ اصل مقصد نہیں رکھا گیا بلکہ فرمایا ہے اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران : ۳۲) ۔ اصل غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع ہے۔ جب انسان آپ کی اتباع میں کھویا جاتا ہے تو ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ ضمناً زیارت بھی ہو جاوے۔ جیسے کوئی میزبان کسی کی دعوت کرتا ہے تو وہ اس کے لیے عمدہ کھانے لاتا ہے لیکن ان کھانوں کے ساتھ وہ ایک دستر خوان بھی لے آتا ہے۔ ہاتھ بھی دھلائے جاتے ہیں حالانکہ اصل مقصد تو کھانا ہوتا ہے۔ اسی طرح پر جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع کرتا ہے اور اسی کو اپنا مقصد ٹھہراتا ہے اس کے ساتھ آپ کی زیارت کا ہو جانا بھی کسی وقت ممکن ہے۔ دیکھو! بہت سے لوگ یہاں جو بیعت کرنے کے لیے آتے ہیں وہ مجھے دیکھتے ہیں لیکن اگر ان میں وہ تبدیلی جو میری اصل غرض ہے اور جس کے لیے میں بھیجا گیا ہوں نہیں ہوتی تو میرے دیکھنے سے اُن کو کیا فائدہ ہوا۔ ا اس طرح خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ شخص بڑا ہی بد بخت ہے اور اس کی کچھ بھی قدر اللہ تعالیٰ کے حضور نہیں جس نے گو سارے انبیاء علیہم السلام کی زیارت کی ہو مگر وہ سچا اخلاص ، وفاداری اور خدا تعالیٰ پر سچا ایمان خشیت اللہ اور تقویٰ اس کے دل میں نہ ہو۔ پس یا د رکھو کہ نری زیارتوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ خدا تعالیٰ نے جو پہلی دعا سکھلائی ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحة : ۷،۶) اگر خدا تعالیٰ کا اصل مقصود زیارت ہوتا تو وہ اهْدِنَا کی جگہ ارِنَا صُوَرَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا تعلیم فرماتا جو نہیں کیا گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی میں دیکھ لو کہ آپ نے کبھی یہ خواہش نہیں کی کہ مجھے ابراہیم علیہ السلام کی زیارت ہو جاوے۔ گو آپ کو معراج میں سب کی زیارت بھی ہو گئی ۔ پس یہ امر مقصود بالذات ہر گز نہیں ہونا چاہیے۔ اصل مقصد سچی اتباع ہے۔ سورۃ فاتحہ کی دعا جو کہ سورہ فاتح کا کر تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اس میں تین گروہوں کا ذکر ہے۔ اوّل منعم علیہم ، دوم مغضوب ، سوم ضالین ۔