ملفوظات (جلد 3) — Page 111
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد سوم الحکم میں شائع کرنے کے قابل ہوسکیں گے تاہم حاصل بالمطلب کے طور پر اتنا اب بھی لکھ دیتے ہیں کہ حضرت اقدس نے اس چٹھی میں ایک عظیم الشان فیصلہ کی بنیاد رکھ دی ہے ۔ ہمارے نان ناظرین اخب اخبار کو غالباً معلوم ہوگا ہوگا۔ کہ ڈاکٹر ڈوئی کا یہ دعویٰ ا ہے ہے کہ کہ وہ وہ عہد عہد نا، نامہ کا رسول ہے ۔ وہ الیاس پیغمبر ہے جس کا آنا مسیح سے پہلے ضروری تھا اور اس نے اپنے اخبار میں یہ پیشگوئی کی ہے کہ وہ سلطنت، وہ انسان، وہ قوم ہلاک ہو جائے گی جو اس کو رسول نہیں مانتے اور مسلمانوں کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے اور اس پیشگوئی میں ہماری گورنمنٹ کو بھی داخل کر لیا ہے اور تمام دنیا کی سلطنتوں کو شامل کیا ہے۔ حضرت اقدس نے اس چٹھی کے ذریعہ ڈاکٹر ڈوئی کو دعوت کی ہے کہ اب فیصلہ کا طریق آسان ہے۔ اس قدر مسلمانوں کے ہلاک کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ مسیح موعود جس کا ڈاکٹر ڈوئی انتظار کرتا ہے آگیا ہے وہ میں ہوں ۔ پس میرے ساتھ مقابلہ کر کے یہ فیصلہ ہو سکتا ہے کہ کون کا ذب اور مفتری ہے۔ ڈاکٹر ڈوئی اپنے مریدوں میں سے ایک ہزار آدمی کے دستخط دے کر ایک قسم اس طرح شائع کر دے کہ ہم دونوں میں سے جو کا ذب اور مفتری ہے وہ راست باز اور صادق سے پہلے ہلاک ہو جاوے۔ پس پھر کا ذب کی موت خود ایک نشان ہو جاوے گا۔ یہ خلاصہ ہے اس چٹھی کا جس میں اور بھی بہت سے حقائق ہیں ۔ حضرت اقدس نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہمیشہ کے لئے ثابت کر دیا جاوے کہ یہ غلط خیال ہے کہ تلوار کبھی مذہب کا فیصلہ نہیں کر سکتی یعنی مسئلہ جہاد پر روشنی ڈالی ہے اور اس کے ضمن میں حضرت مسیح کی موت اور آپ کی قبر پر بحث کی ہے اور ان واقعات کی بنا پر جو انجیل میں درج ہوئے ہیں ثابت کیا ہے کہ وہ صلیب پر نہیں مرے بلکہ وہاں سے بیچ کر نکل کھڑے ہوئے اور کشمیر میں آ کر فوت ہوئے ۔ اس چٹھی کے ختم کرنے کے بعد مولوی عبد اللہ صاحب کشمیری نے ایک فارسی نظم غازی و گولڑی کے جواب میں پڑھی جو دوسری جگہ درج ہے۔ پھر مولوی جمال الدین صاحب سیکھواں والے نے ایک پنجابی نظم تصدیق المسیح میں جو سوہل کے خیاطوں کو مخاطب کر کے لکھی گئی ہے پڑھ کر سنائی جس میں حضرت حجتہ اللہ کی صداقت کا معیار آپ کی عظیم الشان کامیابیاں اور دشمنوں کی نامرادیاں مذکور تھیں ۔ ان