ملفوظات (جلد 3) — Page 106
شدید ہوتے ہیں اور فنافی اللہ کے درجہ پر ہوتاہے تواس سے بسا اوقات خارقِ عادت معجزات صادر ہوتے ہیں جو اپنے اندر ایک قسم کی اقتداری قوت کانمونہ رکھتے ہیں لوگ اپنی غلط فہمی اور کمزوری سے یہ گمان کر بیٹھتے ہیں کہ شاید یہ خداہو۔شہودی حالت میں اکثر امور ان کی مرضی کے موافق ہو جاتے ہیں جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعلوں کو خدا تعالیٰ نے اپنا فعل قرار دیا ہے اور اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ (المائدۃ :۴) اور اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ (النّصـر :۲) کی صدا آپ کو آگئی۔۱ ۴؍اگست ۱۹۰۲ء ۴؍اگست کی شام کو بعد نماز مغرب حضرت حجۃاللہ حسب معمول تشریف فرما ہوئے۔خدام پروانہ وار ارد گرد تھے۔ایک نوجوان نے عرض کی کہ مَیں اپنا خواب بیان کرنا چاہتا ہوں۔فرمایا۔کل صبح کو بیان کرو۔مسنون طریق یہی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صبح ہی کو خواب سنا کرتے تھے۔ایک زبردست نشان اثنائے کلام میں اس اَمر پر تذکرہ ہو اکہ فیضی ساکن بھیں نے اعجازالمسیح کا جواب لکھنا چاہا تھا جو خدا تعالیٰ کے وعدے کے موافق جو اعجاز المسیح کے ٹائٹل پیج پر درج ہے بامُراد نہ ہوسکا بلکہ اس دنیا سے اُٹھ گیا۔حضرت حجۃ اللہ نے فرمایا کہ یہ کس قدر زبر دست نشان ہے خدا کی طرف سے ہماری تصدیق اور تائید میںکیونکہ قرآن شریف میں آیا ہے وَ اَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ ( الرّعد: ۱۸ ) اب سوال یہ ہوتا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جیسا کہ ہمارے مخالف مشہور کرتے ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھا تو چاہیے تھا کہ فیضی نے جولوگوں کی نفع رسانی کا کام شروع کیا تھا اس میں اس کی تائید کی جاتی لیکن اس طرح پر اس کا جوانامرگ ہوجاناصاف ثابت کرتا ہے کہ اس سلسلہ کی مخالفت کے لیے قلم اُٹھانا لوگوںکی نفع رسانی