ملفوظات (جلد 3) — Page 95
کا وقت غفلت کی حالت میں اس پر آجاوے۔بے شک اس وقت دروازہ بند ہو جاتا ہے۔۱ علم نُور ہے اور جہالت حجابِ اکبر یاد رکھو لغزش ہمیشہ نادان کو آتی ہے۔شیطان کو جو لغزش آئی وہ علم کی وجہ سے نہیں بلکہ نادانی سے آئی۔اگر وہ علم میںکمال رکھتا تو لغزش نہ آتی۔قرآن شریف میںعلم کی مذمت نہیں بلکہ اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓـؤُا (فاطر: ۲۹) ہے۔اور نیم ملّاں خطرہ ایمان مشہور مثل ہے۔پس میرے مخالفوں کو علم نے ہلاک نہیں کیا بلکہ جہالت نے۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا قُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا (طٰہٰ : ۱۱۵ ) پس اگر علم کوئی معمولی اور چھوٹی سی چیز ہوتی تو یہ دعا آپ کو تعلیم نہ کی جاتی۔اور پھر فرمایا مَنْ يُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِيَ خَيْرًا كَثِيْرًا(البقرۃ : ۲۷۰ ) غرض ساری سعادتیں علم صحیح کی تحصیل میں ہیں یہ جس قدر لوگ نصرانی ہوئے ہیں وہ جہالت کے سبب ہوئے۔اگر علم کامل ہوتا تو انسان کو خدا نہ بناتے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جہنمی کہیں گے لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ(الملک : ۱۱ )۔یہ جو کہتے ہیں اَلْعِلْمُ الْـحِجَابُ الْاَکْبَـرُ یہ غلط ہے۔اَلْـجَھْلُ الْـحِجَابُ الْاَکْبَـرُ۔علم نور ہے وہ حجاب نہیں ہو سکتا بلکہ جہالت حجاب اکبر ہے۔خدا کا نام علیم ہے اور پھر قرآن میں آیا ہے اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ(الرَّحـمٰن : ۲،۳) اسی لیے ملائکہ نے کہا لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا (البقرۃ : ۳۳) مختصر یہ کہ یاد رکھو کہ ساری زہریں نادانی میں ہیں۔جہالت سچ مچ ایک موت ہے۔تمام اطبّاء اور ڈاکٹر اور دوسرے لوگ جو غلطی کھاتے ہیں وہ قصور علم کی وجہ سے کھاتے ہیں۔انبیاء علم لے کر آتے ہیں جب دنیا میں ظلمت چھا جاتی ہے اور مخلوق شیطان ہوجاتی ہے اور خدا تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں رہتا اس وقت خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو تجدید کے لیے بھیجتا ہے۔۲ موت مومن کے لیے خوشی کا باعث ہے موت کے متعلق ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔موت سے نہیں ڈرنا چاہیے مگر خدا کے غضب سے بچنا چاہیے کیونکہ موت تو بہرحال آنے والی ہے۔