ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 93

اس میں انسان کا فرض ہے کہ دوسروں کو نفع پہنچائے اور اس کی صورت یہ ہے۔اُن کو خدا کی محبت پیدا کرنے اور اس کی توحید پر قائم ہونے کی ہدایت کرے جیسا کہ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ( العصـر : ۴) سے پایا جاتا ہے۔انسان بعض وقت خود ایک اَمر کو سمجھ لیتا ہے لیکن دوسرے کو سمجھانے پر قادر نہیں ہوتا۔اس لیے اُس کو چاہیے کہ محنت اور کوشش کر کے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچاوے۔ہمدردیٔ خلائق یہی ہے کہ محنت کر کے دماغ خرچ کر کے ایسی راہ نکالے کہ دوسروں کو فائدہ پہنچا سکے تا کہ عمر دراز ہو۔اَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ کے مقابل پر ایک دوسری آیت ہے جو دراصل اس وسوسہ کا جواب ہے کہ عابد کے مقابل نفع رساں کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور عابد کی کیوں نہیں ہوتی؟ اگر چہ میں نے بتا یا ہے کہ کامل عابد وہی ہو سکتا ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچائے لیکن اس آیت میں اور بھی صراحت ہے اور وہ آیت یہ ہے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ(الفرقان : ۷۸ ) یعنی ان لوگوں کو کہہ دو کہ اگر تم لوگ ربّ کو نہ پکارو تو میرا ربّ تمہاری پروا ہی کیا کرتا ہے یا دوسرے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ عابد کی پروا کرتا ہے۔وہ عابد زاہد جن کی بابت کہا جاتا ہے کہ وہ بنوں اور جنگلوں میں رہے اور تارک الدُّنیا تھے ہمارے نزدیک وہ بودے اور کمزور تھے کیونکہ ہمارا مذہب یہ ہے کہ جو شخص اس حدتک پہنچ جاوے کہ اﷲ اور اس کے رسول کی کامل معرفت ہو جاوے وہ کبھی خاموش رہ سکتا ہی نہیں۔وہ اس ذوق اور لذّت سے سرشار ہو کر دوسروں کو اس سے آگاہ کرنا چاہتا ہے۔حکمت ایمانیاں راہم بخواں یقین ایک ایسی شَے ہے جو انسان کو ایک قوت اور شجاعت عطا کرتا ہے۔یقین معلومات سے بڑھتا ہے اور جب معلومات وسیع ہوں تو یقین کی قوت سے ایک ماتحت اپنے افسر کے سامنے اپنے مقصد کو بیان کرنے سے نہیںڈرتا لیکن اگر معلومات کم ہوں تو یقین میں بھی ایک قسم کی کمزوری ہوگی اور پھر خواہ وہ افسر بھی ہو تو اسے بھی دبنا پڑتا ہے۔یہ صحیح بات ہے کہ زندگی اور طاقت تب پیدا ہوتی ہے جب پورا علم ہو۔اس وقت انسان اپنے آپ کو مشکلات میں ڈالتا ہوا بھی پروا نہیں کرتا۔جیسے صحابہ جو یقین اور معرفت کے نور سے بھر کر دل میں ایک قوت اور شجاعت رکھتے تھے وہ بادشاہوں کے سامنے کس دلیری سے جابولے۔یقین ایسی