ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 2 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 2

کی ایسی ہی مثال ہے کہ مدرسوں میں سلسلہ تعلیم کے ساتھ یہ بھی لازمی رکھا گیا ہے کہ ایک خاص وقت تک لڑکے ورزش بھی کریں۔اس ورزش اور قواعد وغیرہ سے جو سکھائی جاتی ہے سررشتہ تعلیم کے افسروں کا یہ منشا تو ہو نہیں سکتا کہ ان کو کسی لڑائی کے لیے طیار کیا جاتا ہے اور نہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ وقت ضائع کیا جاتا ہے اور لڑکوں کا وقت کھیل کود میں دیا جاتا ہے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اعضا جو حرکت کو چاہتے ہیں اگر ان کو بالکل بے کار چھوڑ دیا جائے تو پھر ان کی طاقتیں زائل اور ضائع ہو جاویں اور اس طرح پر اُس کو پورا کیا جاتا ہے۔بظاہر ورزش کرنے سے اعضا کو تکلیف اور کسی قدر تکان اُن کی پرورش اور صحت کاموجب ثابت ہوتی ہے۔اسی طرح پر ہماری فطرت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ تکلیف کو بھی چاہتی ہے تا کہ تکمیل ہو جاوے۔اس لیے اﷲ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہی ہوتا ہے جو وہ انسان کو بعض اوقات ابتلائوں میں ڈال دیتا ہے۔اس سے اس کی رضا بالقضا اور صبر کی قوتیں بڑھتی ہیں۔جس شخص کو خدا پر یقین نہیں ہوتا ان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ ذرا سی تکلیف کے پہنچنے پر گھبرا جاتے ہیں اور وہ خود کشی میں آرام دیکھتا ہے، مگر انسان کی تکمیل اور تربیت چاہتی ہے کہ اس پر اس قسم کے ابتلا آویں اور تاکہ اﷲ تعالیٰ پر اس کا یقین بڑھے۔اﷲ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے لیکن جن کو تفرقہ اور ابتلا نہیں آتا ان کا حال دیکھوکہ کیسا ہوتا ہے۔وہ بالکل دنیا اور اس کی خواہشوں میں منہمک ہو گئے ہیں اُن کا سر اوپر کی طرف نہیں اٹھتا۔خدا تعالیٰ کا ان کو بھول کر بھی خیال نہیں آتا۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اعلیٰ درجہ کی خوبیوں کو ضائع کر دیا اور بجائے اس کے ادنیٰ درجہ کی باتیں حاصل کیں کیونکہ ایمان اور عرفان کی ترقی ان کے لیے وہ راحت اور اطمینان کے سامان پیدا کرتے جو کسی مال و دولت اور دنیا کی لذت میں نہیں ہیں۔مگر افسوس کہ وہ ایک بچہ کی طرح آگ کے انگارہ پر خوش ہو جاتے ہیں اور اس کی سوزش اور نقصان رسانی سے آگاہ نہیں لیکن جن پر اﷲ تعالیٰ کافضل ہوتاہے اور جن کو ایمان اور یقین کی دولت سے مالا مال کرتا ہے ان پر ابتلا آتا ہے۔جو کہتے ہیں کہ ہم پر کوئی ابتلا نہیں آیا وہ بدقسمت ہیں۔وہ نازونعمت میں رہ کر بہائم کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ان کی زبان ہے مگر وہ حق بول نہیں سکتی۔خدا کی حمد وثنا اس پر جاری نہیں ہوتی بلکہ وہ