ملفوظات (جلد 2) — Page 88
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۸ جلد دوم چودھویں صدی بتلایا اور اندرونی یعنی روحانی وقت یہ ہے کہ زمانہ کی حالت یہ بتلا رہی ہے کہ اس وقت مسیح آنا چاہیے۔ دونوں وقت اس جگہ آکر مل گئے ہیں ۔ اے ۲۲ جنوری ۱۹۰۱ء جماعت احمدیہ کی وجہ تسمیہ (اس جماعت کا نام احمدی رکھا جانے پر سی نے سنایا کہ کوئی اعتراض کرتا تھا کہ یہ نیا نام ہے۔ اس پر کچھ گفتگو ہوئی ۔ ) فرمایا۔ لوگوں نے جو اپنے نام حنفی ، شافعی وغیرہ رکھے ہیں یہ سب بدعت ہیں۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ہی نام تھے ۔ محمد اور احمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آنحضرت کا اسم اعظم محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم اللہ ہے۔ اسم الله دیگر کل اسماء مثلاً حتی ، قیوم ، رحمن، رحیم وغیرہ کا موصوف ہے۔ حضرت رسول کریم کا نام احمد وہ ہے جس کا ذکر حضرت مسیح نے کیا يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ ( الصف :) مِنْ بَعْدِی کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نبی میرے بعد بلا فصل آئے گا یعنی میرے اور اس کے درمیان اور کوئی نبی نہ ہوگا۔ حضرت موسیٰ نے یہ الفاظ نہیں کہے بلکہ اُنہوں نے مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاء ۔۔۔۔۔۔ (الفتح : ۳۰) میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جب بہت سے مومنین کی معیت ہوئی جنہوں نے کفار کے ساتھ جنگ کئے ۔ حضرت موسی نے آنحضرت کا نام محمد بتلا یا صلی اللہ علیہ وسلم کیونکہ حضرت موسی خود بھی جلالی رنگ میں تھے اور حضرت عیسی نے آپ کا نام احمد بتلایا کیونکہ وہ خود بھی ہمیشہ جمالی رنگ میں تھے۔ اب چونکہ ہمارا سلسلہ بھی جمالی رنگ میں ہے۔ اس واسطے اس کا نام احمدی ہوا۔ فرمایا ۔ جمعہ حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیدا ہونے کا دن تھا اور یہی متبرک دن تھا مگر پہلی اُمتوں نے غلطی کھائی۔ کسی نے شنبہ کے دن کو اختیار کیا اور کسی نے یکشنبہ کے دن کو ۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۴ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۱۱