ملفوظات (جلد 2) — Page 80
زائد از فرائض ہیں اور وہ اس لئے ہیں کہ تا فرائض میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہو، نوافل سے پوری ہو جاوے۔لوگوں نے نوافل صرف نماز ہی کے نوافل سمجھے ہوئے ہیں۔نہیں یہ بات نہیں ہے۔ہر فعل کے ساتھ نوافل ہوتے ہیں۔انسان زکوٰۃ دیتا ہے تو کبھی زکوٰۃ کے سوا بھی دے۔رمضان میں روزے رکھتا ہے کبھی اس کے سوا بھی رکھے۔قرض لے تو کچھ ساتھ زائد دے کیونکہ اس نے مروّت کی ہے۔نوافل متمم فرائض ہوتے ہیں۔نفل کے وقت دل میں ایک خشوع اور خوف ہوتا ہے کہ فرائض میں جو قصور ہوا ہے وہ اب پورا ہو جائے۔یہی وہ راز ہے جو نوافل کو قربِ الٰہی کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے گویا خشوع اور تذلّل اور انقطاع کی حالت اس میں پیدا ہوتی ہے اور اسی لئے تقرّب کی وجہ میں اَیّامِ بِیْض کے روزے۔شوال کے چھ روزے یہ سب نوافل ہیں۔پس یاد رکھو کہ خدا سے محبتِ تام نفل ہی کے ذریعہ ہوتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خدا فرماتا ہے کہ پھر میں ایسے مقرب اور مومن بندوں کی نظر ہو جاتا ہوں یعنی جہاں میرا منشا ہوتا ہے وہیں ان کی نظر پڑتی ہے۔صادق موت کا بھروسا نہیں رکھتا اور خدا سے غافل نہیں ہوتا۔ان کے کان ہو جاتا ہوں۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جہاں اللہ کی یا اس کے رسول کی یا اس کی کتاب کی تحقیر اور ذلت ہوتی ہے وہاں سے بیزار اور ناراض ہو کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔وہ سن نہیں سکتے اور کوئی ایسی بات جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور حکم کے خلاف ہو نہیں سنتے اور ایسی مجلسوں میں نہیں بیٹھتے۔ایسا ہی فسق وفجور کی باتیں اور سماع کے ناپاک نظاروں اور آوازوں سے پر ہیز کرتے ہیں۔نامحرم کی آواز سن کر بُرے خیالات کا پیدا ہونا زَنَا الْاُذُن ہے۔اسی لئے اسلام نے پردہ کی رسم رکھی ہے۔مسیح کا یہ کہنا کہ زنا کی نظر سے نہ دیکھ۔کوئی کامل تعلیم نہیں ہے۔اس کے مقابلہ میں کامل تعلیم یہ ہے جو مبادی گناہ سے بچاتی ہے۔قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ (النّور:۳۱) یعنی کسی نظر سے بھی نہ دیکھیں کیونکہ دل اپنے اختیار میں نہیں ہے۔یہ کیسی کامل تعلیم ہے۔پھر فرماتا ہے کہ ہو جاتا ہوں اس کے ہاتھ۔بعض وقت انسان ہاتھوں سے بہت بے رحمی کرتا ہے۔