ملفوظات (جلد 2) — Page 79
مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ(البقرۃ:۱۵۷) یاد رکھو کہ خدا کا خاص بندہ اور مقرب تب ہی ہوتا ہے کہ ہر مصیبت پر خدا ہی کو مقدم رکھے۔غرض ایک وہ حصہ ہوتا ہے جس میں خدا اپنی منوانا چاہتا ہے۔دعا کے معنے تو یہی ہیں کہ انسان خواہش ظاہر کرتا ہے کہ یوں ہو۔پس کبھی مولیٰ کریم کی خواہش مقدم ہونی چاہیے اور کبھی اللہ کریم اپنے بندہ کی خواہش کو پورا کرتا ہے۔دوسرا محل معاوضہ کا یہ ہے کہ اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ( المؤمن :۶۱) اس میں تناقض نہیں ہے۔جب جہات مختلف ہوں تو تناقض نہیں رہا کرتا۔اس محل پر اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی مانتا ہے۔قبولیتِ دعا کی شرط یہ خوب یاد رکھو کہ انسان کی دعا اس وقت قبول ہوتی ہے جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے غفلت، فسق و فجور کو چھوڑ دے۔جس قدر قربِ الٰہی انسان حاصل کرے گا اسی قدر قبولیتِ دعا کے ثمرات سے حصہ لے گا۔اسی لئے فرمایا ہے کہ وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ١ؕ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَ لْيُؤْمِنُوْا بِيْ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ ( البقرۃ :۱۸۷) اور دوسری جگہ فرمایا ہےکہ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِيْدٍ (سبا:۵۳) یعنی جو مجھ سے دور ہواس کی دعا کیوں کر سنو ں۔یہ گویا عام قانون قدرت کے نظارہ سے ایک سبق دیا ہے۔یہ نہیں کہ خدا سن نہیں سکتا۔وہ تو دل کے مخفی در مخفی ارادوں اور ان ارادوں سے بھی واقف ہے جو ابھی پیدا نہیں ہوئے۔مگر یہاں انسان کو قرب الٰہی کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جیسے دور کی آواز سنائی نہیں دیتی اسی طرح پر جو شخص غفلت اور فسق وفجور میں مبتلا رہ کر مجھ سے دور ہو تا جاتا ہے جس قدر وہ دور ہوتا ہے اُسی قدر حجاب اور فاصلہ اس کی دعا ؤں کی قبولیت میں ہوتا جاتا ہے کیا سچ کہا ہے۔ع پیدا است ندا را کہ بلند ہست جنابت جیسے میں نے ابھی کہا گو خدا عالم الغیب ہے لیکن یہ قانون قدرت ہے کہ تقویٰ کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔نوافل کی حقیقت نادان انسان بعض وقت عدم قبول دعا سے مرتد ہو جاتا ہے۔صحیح بخاری میں حدیث موجود ہے کہ نوافل سے مومن میرا مقرب ہوجاتا ہے۔ایک فرائض ہوتے ہیں دوسرے نوافل۔یعنی ایک تو وہ احکام ہیں جو بطور حق واجب کے ہیں اور نوافل وہ ہیں جو