ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 73

واقعہءِ بدر میں مسیح موعودؑ کے زمانہ کی پیش گوئی بدر پر ایسی عظیم الشان نشان کے اظہار میں آئندہ کی بھی ایک خبر رکھی گئی تھی اور وہ یہ کہ بدر چودھویں کے چاند کو بھی کہتے ہیں۔اس سے چودھویں صدی میں اللہ تعالیٰ کی نصرت کے اظہار کی طرف بھی ایما ہے اور یہ چودھویں صدی وہی صدی ہے جس کے لئے عورتیں تک کہتی تھیں کہ چودھویں صدی خیرو برکت کی آئے گی۔خدا کی باتیں پوری ہوئیں اور چودھویں صدی میں اللہ تعالیٰ کے منشا کے موافق اسم احمد کا بروز ہوا اور وہ میں ہوں جس کی طرف اس واقعہ بدر میں پیشگوئی تھی۔جس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کہا۔مگر افسوس کہ جب وہ دن آیا اور چودھویں کا چاند نکلا تو دوکاندار،خود غرض کہا گیا۔افسوس ان پر جنہوں نے دیکھا اور نہ دیکھا۔وقت پایا اور نہ پہچانا۔وہ مَر گئے جو منبروں پر چڑھ چڑھ کر رویا کرتے تھے کہ چودھویں صدی میں یہ ہو گا اور وہ رہ گئے جو کہ اب منبروں پر چڑھ کر کہتے ہیں کہ جو آیا ہے وہ کاذب ہے!!! ان کو کیا ہو گیا۔یہ کیوں نہیں دیکھتے اور کیوں نہیں سوچتے۔اُس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے بدر ہی میں مدد کی تھی اور وہ مدد اَذِلَّۃٌ کی مدد تھی۔جس وقت ۳۱۳ آدمی صرف میدان میں آئے تھے اور کُل دو تین لکڑی کی تلواریں تھیں اور ان تین سو تیرہ میں زیادہ تر چھوٹے بچے تھے۔اس سے زیادہ کمزوری کی حالت کیا ہو گی۔اور دوسری طرف ایک بڑی بھاری جمعیت تھی اور وہ سب کے سب چیدہ چیدہ جنگ آزمودہ اور بڑے بڑے جوان تھے۔آنحضرتؐکی طرف ظاہری سامان کچھ نہ تھا اس وقت۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جگہ پر دعا کی اَللّٰھُمَّ اِنْ اَھْلَکْتَ ھٰذِہِ الْعِصَابَۃَ لَنْ تُعْبَدَ فِی الْاَرْضِ اَبَدًا یعنی اے اللہ!اگر آج تو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو پھر کوئی تیری عبادت کرنے والا نہ رہے گا۔آج وہی بدر والا معاملہ ہے سنو! میں بھی یقیناً اُسی طرح کہتا ہوں کہ آج وہی بدر کا معاملہ ہے۔اللہ تعالیٰ اسی طرح ایک جماعت طیار کر رہا ہے۔وہی بدر اور اَذِلَّۃٌ کا لفظ موجود ہے۔کیا یہ جھوٹ ہے کہ اسلام پر ذلت نہیں آئی؟نہ سلطنت ظاہری میں شوکت ہے۔ایک یورپ کی سلطنت منہ دکھاتی ہے تو بھاگ جاتے ہیں اور کیا مجال ہے جو سر اٹھائیں۔