ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 72

نبی کریمؐ کی قوتِ قدسی کا ثبوت یہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسی کے کامل اور سب سے بڑھ کر ہونے کا ایک اَور ثبوت ہے کہ آپ کے تربیت یافتہ گروہ میں وہ استقلال اور رسوخ تھا کہ وہ آپ کے لئے اپنی جان، مال تک دینے سے دریغ نہ کرنے والے میدان میں ثابت ہوئے اور مسیح کے نقص کا یہ بد یہی ثبوت ہے کہ جو جماعت طیار کی وہی گرفتار کرانے اور جان سے مروانے اور لعنت کرنے والے ثابت ہوئے۔غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحیمیت کا اثر تھا کہ صحابہ میں ثباتِ قدم اور استقلال تھا۔پھر مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ کا عملی ظہور صحابہ کی زندگی میں یہ ہوا کہ خدا نے اُن میں اور اُن کے غیروں میںفرقان رکھ دیا یا جو معرفت اور خدا کی محبت دنیا میں اُن کو دی گئی یہ اُن کی دنیا میں جزا تھی۔اب قصہ کو تاہ کرتا ہوں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں ان صفات اربعہ کی تجلّی چمکی۔مسیح موعود ؑکے زمانہ کی جماعت بھی صحابہ ہی ہو گی لیکن بات بڑی غور طلب ہے کہ صحابہ کی جماعت اتنی ہی نہ سمجھو جو پہلے گزر چکے بلکہ ایک اور گروہ بھی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے۔وہ بھی صحابہ ہی میں داخل ہے جو احمد کے بروز کے ساتھ ہوں گے۔چنانچہ فرمایا ہے وَ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ( الـجمعۃ :۴) یعنی صحابہ کی جماعت کو اسی قدر نہ سمجھو بلکہ مسیح موعود ؑ کے زمانہ کی جماعت بھی صحابہ ہی ہو گی۔اس آیت کے متعلق مفسروں نے مان لیا ہے کہ یہ مسیح موعود کی جماعت ہے۔مِنْهُمْ کے لفظ سے پایا جاتا ہے کہ باطنی توجہ اور استفاضہ صحابہ ہی کی طرح ہو گا۔صحابہ کی تربیت ظاہری طور پر ہوئی تھی مگر ان کو کوئی دیکھ نہیں سکتا۔وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تر بیت کے نیچے ہوں گے۔اس لئے سب علماء نے اس گروہ کا نام صحابہ ہی رکھا ہے جیسے ان صفات اربعہ کاظہور اُن صحابہ میں ہواتھا ویسے ہی ضروری ہے کہ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ(الـجمعۃ:۴) کی مصداق جماعت صحابہ میں بھی ہو۔اب دیکھو کہ صحابہ کو بدر میں نصرت دی گئی اور فرمایا گیا کہ یہ نصرت ایسے وقت میں دی گئی جبکہ تم تھوڑے تھے۔اس بدر میں کفر کا خاتمہ ہو گیا۔