ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 70

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۰ جلد دوم آپ سب نبیوں کے بعد آئے مگر یہ صدا کہ میرا ہ صدا کہ میرا مرنا اور میرا جینا اللہ تعالیٰ کے لئے ہے، دوسرے کے منہ سے نہیں نکلی ۔ مسلمان کی حقیقت اب دنیا کی حالت کو دیکھو کہ ہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمنے تو اپنے عمل سے یہ دکھایا کہ میرا مرنا اور جینا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور یا اب دنیا میں مسلمان موجود ہیں کسی سے کہا جاوے کہ کیا تو مسلمان ہے؟ تو کہتا ہے الحمد للہ ۔ جس کا کلمہ پڑھتا ہے اس کی زندگی کا اُصول تو خدا کے لئے تھا مگر یہ دنیا کے لئے جیتا اور دنیا ہی کے لئے مرتا ہے۔ اس وقت تک کہ غرغرہ شروع ہو جاوے دنیا ہی اس کی مقصود ، محبوب اور مطلوب رہتی ہے پھر کیوں کر کہہ سکتا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتا ہوں ۔ یہ بڑی غور طلب بات ہے۔ اس کو سرسری نہ سمجھو۔ مسلمان بننا آسان نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اسلام کا نمونہ جب تک اپنے اندر پیدا نہ کرلو۔ مطمئن نہ ہو۔ یہ صرف چھلکا ہی چھلکا ہے اگر بدوں اتباع مسلمان کہلاتے ہو ۔ نام اور چھلکے پر خوش ہو جانا دانش مند کا کام نہیں ہے۔ لکھا ہے کہ کسی یہودی کو ایک مسلمان نے کہا کہ تو مسلمان ہو جا۔ اس نے کہا کہ تو صرف نام ہی پر خوش نہ ہو جا۔ میں نے اپنے لڑکے کا نام خالد رکھا تھا اور شام سے پہلے ہی اُس کو دفن کر آیا۔ پس حقیقت کو طلب کرو۔ برے ناموں پر راضی نہ ہو جاؤ۔ کس قدر شرم کی بات ہے کہ انسان عظیم الشان نبی کا امتی کہلا کر کافروں کی سی زندگی بسر کرے۔ تم اپنی زندگی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ دکھاؤ، وہی حالت پیدا کرو اور دیکھو کہ اگر وہ حالت نہیں ہے تو تم طاغوت کے پیرو ہو۔ غرض یہ بات اب بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہونا انسان کی زندگی کی غرض و غایت ہونی چاہیے کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ کا محبوب نہ ہو اور خدا کی محبت نہ ملے کامیابی کی زندگی بسر نہیں کر سکتا اور یہ امر پیدا نہیں ہوتا جب تک رسول اللہ کی سچی اطاعت اور متابعت نہ کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے دکھا دیا ہے کہ اسلام کیا ہے؟ پس تم وہ اسلام اپنے اندر پیدا کرو تا کہ تم خدا کے محبوب بنو۔