ملفوظات (جلد 2) — Page 67
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۷ جلد دوم اور گناہوں سے رستگاری اور نجات کا موجب ہوتا ہے۔ اسی دنیا میں وہ ایک پاک زندگی پاتا ہے اور نفسانی جوش و جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے نکال دیا جاتا ہے۔ اسی کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے أَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَهِی یعنی میں وہ مردوں کو اٹھانے والا ہوں جس کے قدموں پر لوگ اٹھائے جاتے ہیں ۔ غرض یہ ہے کہ وہ علوم جو مدار نجات ہیں یقینی اور قطعی طور پر بجز اس حیات کے حاصل نہیں ہو سکتے جو بتوسط روح القدس انسان کو ملتی ہے اور قرآن شریف کی یہ آیت صاف طور پر اور پکار کر یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ حیات روحانی صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وس وسلم کی اطاعت سے ملتی ہے اور وہ تمام لوگ جو بخل اور عناد کی وجہ سے نبی کریم کی متابعت سے سرکش ہیں وہ شیطان کے سایہ کے نیچے ہیں۔ اس میں اس پاک زندگی کی روح نہیں ہے۔ وہ بظاہر زندہ کہلاتا ہے لیکن مردہ ہے جبکہ شیطان اس کے دل پر سوار ہے۔ ا موت کو یا درکھیں افسوس اس کو موت یاد نہیں ہے۔ موت کیا دور ہے؟ جس کی پچاس برس کی عمر ہو چکی ہے اگر وہ زندگی پالے گا تو دو چار برس اور پالے گا یا زیادہ سے ا زیادہ دس برس اور آخر مرنا ہوگا۔ موت ایک یقینی شے ہے جس سے ہرگز ہرگز کوئی بچ نہیں سکتا۔ میں دیکھتا ہوں کہ لوگ روپیہ پیسہ کے حساب میں ایسے غلطاں پیچاں رہتے ہیں کہ کچھ حد نہیں مگر عمر کا حساب کبھی بھی نہیں کرتے ۔ بد بخت ہے وہ انسان جس کو عمر کے حساب کی طرف توجہ نہ ہو۔ سب سے ضروری اور حساب کے لائق جو شے ہے وہ تو عمر ہی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ موت آجائے اور یہ حسرت لے کر دنیا سے کوچ کرے۔ قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ جیسے بہشتی زندگی اسی دنیا سے شروع ہو جاتی ہے جہنم کی زندگی بھی یہاں ہی سے شروع ہو جاتی ہے۔ جب انسان حسرت کے ساتھ مرتا ہے تو بہت بڑے جہنم میں ہوتا ہے جب دیکھتا ہے کہ اب چلا ۔ ہیضہ، طاعون محرقہ، خفقان یا کسی اور شدید مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو موت سے پہلے ایک موت وارد ہو جاتی ہے جو دل اور روح کو فرسودہ کر دیتی ہے اور وہ بھی حسرت ہوتی ہے۔ بعض امراض ایسے ہیں کہ دو منٹ بھی دم لینے نہیں دیتے اور جھٹ پٹ کام تمام کر دیتے ہیں ۔ جس نے ایک دن بھی مطالعہ کیا کہ میں مرنے ولا جانور