ملفوظات (جلد 2) — Page 60
معمولی لفظ تھے تو بتلاؤ کہ موسیٰ علیہ السلام کو یا مسیح علیہ السلام یا کسی نبی کو بھی یہ طاقت کیوں نہ ہوئی کہ وہ یہ لفظ کہہ دیتا۔اصل یہی ہے جس کو یہ قوت، یہ منصب نہیں ملا وہ کیوں کر کہہ سکتا ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ کسی نبی کو یہ شوکت، یہ جلال نہ ملا جو ہمارے نبی کریمؐ کو ملا۔بکری کو اگر ہر روز گوشت کھلاؤ تو وہ گوشت کھانے سے شیر نہ بن سکے گی۔شیر کا بچہ ہی شیر ہو گا۔پس یاد رکھو یہی بات سچ ہے کہ اس نام کا مستحق اور واقعی حقدار ایک تھا جو محمدؐ کہلایا۔یہ دادِ الٰہی ہے جس کے دل ودماغ میں چاہے یہ قوتیں رکھ دیتی ہے اور خدا خوب جانتا ہے کہ ان قوتوں کا محل اور موقع کون ہے۔ہر ایک کاکام نہیں کہ اس راز کو سمجھ سکے اور ہر ایک کے منہ میں وہ زبان نہیں جو یہ کہہ سکے کہ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا (الاعراف:۱۵۹) جب تک روح القدس کی خاص تائید نہ ہو یہ کلام نہیں نکل سکتا۔رسول اللہؐ میں وہ ساری قوتیں اور طاقتیں رکھی گئی تھیں جو محمدؐ بنا دیتی ہیں تا کہ بالقوۃ باتیں بالفعل میں بھی آجاویں،اس لئے آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا۔ایک قوم کے ساتھ جو مشقت کرنی پڑتی ہے تو کس قدر مشکلات پیش آتی ہیں۔ایک خدمت گار شریر ہو تو اس کا درست کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔آخر تنگ اور عاجز آکر اس کو بھی نکال دیتا ہے۔لیکن وہ کس قدر قابلِ تعریف ہو گا جو اسے درست کرلے اور پھر وہ تو بڑا ہی مردِ میدان ہے جو اپنی قوم کو درست کر سکے حالانکہ یہ بھی کوئی بڑی بات نہیں۔مگر وہ جو مختلف قوموں کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا سوچو تو سہی کس قدر کامل اور زبردست قویٰ کا مالک ہو گا۔مختلف طبیعت کے لوگ،مختلف عمروں، مختلف ملکوں، مختلف خیال مختلف قویٰ کی مخلوق کو ایک ہی تعلیم کے نیچے رکھنا اور پھر ان سب کی تربیت کر کے دکھلا دینا اور وہ تربیت بھی کوئی جسمانی نہیں بلکہ روحانی تربیت، خدا شناسی اور معرفت کی باریک سے باریک باتوں اور اسرار سے پورا واقف بنا دینا اور نری تعلیم ہی نہیں بلکہ عامل بھی بنا دینا یہ کوئی چھوٹی سی بات نہیں ہے۔دنیا کے لئے اجتماع بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ ان میں ذاتی مفاد اور دنیوی لالچ کی ایک تحریک ہوتی ہے۔مگر کوئی یہ بتلائے کہ محض اللہ کے لئے پھر ایسے وقت میں کہ اس جلالی نام سے کل دنیا ناواقف ہو پھر ایسی حالت میں کہ اس کا اقرار کرنا دنیا کی تمام مصیبتوں کو اپنے سر پر اٹھا لینا ہو کون کسی کے پاس