ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 56

سے معمولی طور پر پیشاب کی راہ پیدا ہونے والا ضعیف و ناتواں بچہ جو کھانے پینے کا محتاج، پاخانہ اور پیشاب کی حاجتوں کا پا بند، تمام انسانی حوائج کا اسیر اور محتاج ہو خدا ہو سکتا ہے؟صرف اتنی ہی بات ہے کہ پرانی بات ہو کر انہوںنے قائم مقام دلیل کے بنا لی ہے۔جیسے ہندوؤں کے خیال میں گنگا کے پانی میں سَت اور برکت خیالی طور پر رکھی ہوئی ہے حالانکہ وہ ایک معمولی دریا ہے جس میں مینڈک، کچھوے اسی طرح موجود ہیں جیسے اور دریاؤںمیں اور اس میں مُردوں کی ہڈیاں ڈالی جاتی ہیں۔اب اگر ایک ہندو سے اس کی دلیل پوچھیں تو وہ یہی کہے گا کہ میرے دل میں دلیل ہے بیان نہیں کر سکتا۔ایسا ہی نادان آریوں نے جو پرمیشر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے،وہ ایک مستری اور کاریگر سے بڑھ کر نہیں کیونکہ بجز جوڑنے جاڑنے کے خَالقیت کے اعلیٰ جوہر سے وہ بے بہرہ ہے۔روح اور ذرّات عالم پر اس کا کوئی تصرّف نہیں۔کیونکہ اس نے ان کوپیدا ہی نہیں کیا۔وہ کبھی اپنے بندوں کو نجات نہیں دے سکتا کیونکہ پھر سارا کارخانہ ہی بگڑتا ہے اور ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔وہ اپنے کسی مخلص بندہ کی دعا ہی نہیں سن سکتا اور نہ کسی کو وہ اپنے فضل سے کچھ دے سکتا ہے کیونکہ جو کچھ وہ کسی کو دیتا ہے اس کے ہی کرموں کا پھل ہوتا ہے۔غرض ہر قوم اور کتاب نے جو خدا پیش کیا ہے اس کو دیکھ کر شرم آجاتی ہے۔یہ فضیلت اور فخر اسلام ہی کو ہے کہ اس کا ماننے والا کبھی شرمندہ نہیں ہوسکتا۔اس نے کامل خدا کا پلّہ پکڑا ہے اور کامل ہی کے حضور جائے گا۔۱ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت یہ محض اللہ تعالیٰ کا احسان اور فضل ہے۔پھر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے عظیم الشان احسان فرمایا۔اگر آپ کا وجود باجود دنیا میں نہ آتا تو رام رام کہنے والوں کی طرح بہت سے جھوٹے اور بیہودہ، اینٹ، پتھر وغیرہ معبود بنائے جاتے۔اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ہے کہ نبی معصوم صلی اللہ علیہ وسلم آیا اور بت پرستوں سے اس نے نجات دی۔یہی وہ راز ہے کہ یہ درجہ صرف صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان احسانوں کے معاوضہ میں ملا کہ اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىِٕكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا ۱ الحکم جلد ۵ نمبر۱ مورخہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۰۱ء صفحہ ۲تا ۴