ملفوظات (جلد 2) — Page 55
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۵ جلد دوم کر لیتا ہے۔ بنفشہ، خیارشنبر ، تر بد میں اگر وہ صفات نہ پائے جائیں جو ایک بڑے تجربہ کے بعد ان میں متحقق ہوئے ہیں تو طبیب ان کورڈی کی طرح پھینک دیتا ہے۔ اسی طرح پر ایمان کے نشانات ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بار بار اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ یہ سچی با به سچی بات ہے کہ جب ایمان انسان کے اندر داخل ہو جاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی عظمت یعنی جلال تقدس کبریائی قدرت اور سب سے بڑھ کر لا اله الا اللہ کا حقیقی مفہوم داخل ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے اندر سکونت اختیار کرتا ہے اور شیطانی زندگی پر ایک موت وارد ہو جاتی ہے اور گناہ کی فطرت مر جاتی ہے اس وقت ایک نئی زندگی شروع ہوتی ہے اور وہ روحانی زندگی ہوتی ہے یا یہ کہو کہ آسمانی پیدائش کا پہلا دن وہ ہوتا ہے جب شیطانی زندگی پر موت وارد ہوتی ہے اور روحانی زندگی کا تولد ہوتا ہے۔ جیسے بچے کا تولد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفاتحہ میں اسی تولید کی طرف ایما فرمایا ہے۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ اسلام کا کامل خدا رَبِّ الْعَلَمِينَ - الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ (الفاتحة : ۲ تا ۴) یہ چاروں صفات اللہ تعالیٰ کی بیان کی گئی ہیں۔ یعنی وہ خدا جس میں تمام محامد پائے جاتے ہیں۔کوئی خوبی سوچ اور خیال میں نہیں آسکتی جو اللہ تعالیٰ میں نہ پائی جاتی ہو بلکہ انسان کبھی بھی ان محامد اور خوبیوں کو جو اللہ کریم میں پائی جاتی ہیں کبھی بھی شمار نہیں کر سکتا۔ جو خدا اسلام نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے وہی کامل اور سچا خدا ہے اور اسی لئے قرآن کو اَلْحَمْدُ لِلهِ سے شروع فرمایا ہے دوسری قوموں اور کتابوں نے جس خدا کی طرف دنیا کو دعوت کی ہے وہ کوئی نہ کوئی عیب اپنے اندر رکھتے ہیں ۔کسی کے ہاتھ نہیں ، کسی کے کان نہیں ، کوئی گونگا ہے ، کوئی کچھ ، غرض کوئی نہ کوئی عیب اور روگ موجود ہے۔ مثلاً عیسائیوں نے جس کو خدا بنا رکھا ہے سوچنے والا انسان سوچ سکتا ہے کہ اگر یہ ۱۹۰۰ برس کی مدت ان کے اس خیالی ڈھکوسلہ پر نہ گزرگئی ہوتی تو کچھ بھی ان کے ہاتھ میں نہیں تھا۔ اب صرف ایک بے ہودہ بات کی کہ ۱۹۰۰ برس سے یہ مذہب چلا آتا ہے کوئی دلیل مسیح کی خدائی کی نہیں ہے۔ مسیح کو خدا بنانے والوں کو باوجود اس فلسفہ دانی کے شرم آ جاتی اگر سوچتے کہ کیا کبھی عورت کے پیٹ