ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 54

اللہ تعالیٰ کے نزدیک، اس کے نبی اور فرشتوں کے نزدیک ہیچ ہے۔اسوۂ انبیاء علیہم السلام پھر یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ تمام انسان نمونہ کے محتاج ہوتے ہیں اور وہ نمونہ انبیاء علیہم السلام کا وجود ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر تھا کہ درختوں پر کلام الٰہی لکھاجاتا مگر اس نے جو پیغمبروں کو بھیجا اور ان کی معرفت کلامِ الٰہی نازل فرمایا اس میں سِرّیہ تھا کہ تا انسان جلوۂ الوہیت کو دیکھے جو پیغمبروں میں ہو کرظاہر ہوتا ہے۔پیغمبر الوہیت کے مظہراور خدا نما ہوتے ہیں۔پھر سچا مسلمان اور معتقد وہ ہوتا ہے جو پیغمبروں کا مظہر بنے۔صحابہ کرامؓ نے اس راز کو خوب سمجھ لیا تھا اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں ایسے گم ہوئے اور کھوئے گئے کہ ان کے وجود میں اور کچھ باقی رہا ہی نہیں تھا۔جو کوئی ان کو دیکھتا تھا ان کو محویّت کے عالم میں پاتا تھا۔پس یاد رکھو کہ اس زمانہ میں بھی جب تک وہ محویّت اور وہ اطاعت میں گمشدگی پیدا نہ ہو گی جو صحابہ کرامؓ میں پیدا ہوئی تھی۔مریدوں، معتقدوں میں داخل ہونے کا دعویٰ تب ہی سچا اور بجا ہو گا۔یہ بات اچھی طرح پر اپنے ذہن نشین کر لوکہ جب تک یہ نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تم میں سکونت کرے اور خدا تعالیٰ کے آثار تم میں ظاہر ہوں اس وقت تک شیطانی حکومت کا عمل و دخل موجود ہے۔شیطان جھوٹ ،ظلم،جذبات،خون، طُولِ اَمل ، رِیا اور تکبر کی طرف بلاتاہے اور دعوت کرتا ہے۔اس کے بالمقابل اخلاقِ فاضلہ، صبر، محویت،فنا فی اللہ، اخلاص، ایمان ،فلاح یہ اللہ تعالیٰ کی دعوتیں ہیں۔انسان ان دونوں تجاذب میں پڑا ہوا ہے۔پھر جس کی فطرت نیک ہے اور سعادت کا مادہ اس میں رکھا ہوا ہے وہ شیطان کی ہزاروں دعوتوں اور جذ بات کے ہوتے ہوئے بھی اس فطرت رشید سعادت اور سلامت روی کے مادہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی ہی طرف دوڑتا ہے اور خدا ہی میں اپنی راحت، تسلّی اور اطمینان کو پاتا ہے۔ایمان کے نشانات مگر ہر چیز کے لئے نشان ضرور ہوتے ہیں۔جب تک اس میں وہ نشان نہ پائے جائیں وہ معتبر نہیں ہو سکتی۔دیکھو! دواؤں کی طبیب شناخت