ملفوظات (جلد 2) — Page 53
ہے کہ کس طرح پر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی۔بیعت کے مغز کو اختیار کرو یہ مت خیال کرو کہ صرف بیعت کر لینے سے ہی خدا راضی ہو جاتا ہے۔یہ تو صرف پوست ہے۔مغز تو اس کے اندر ہے۔اکثر قانون قدرت یہی ہے کہ ایک چھلکا ہوتا ہے اور مغز اس کے اندر ہوتا ہے۔چھلکا کوئی کام کی چیز نہیں ہے۔مغز ہی لیا جاتا ہے۔بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں مغز رہتا ہی نہیں اور مرغی کے ہوائی انڈوں کی طرح جن میں نہ زردی ہوتی ہے اور نہ سفیدی جو کسی کام نہیں آسکتے اور ردّی کی طرح پھینک دئیے جاتے ہیں۔ہاںایک دو منٹ تک کسی بچہ کے کھیل کا ذریعہ ہو تو ہو۔اسی طرح پر وہ انسان جو بیعت اور ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اگر وہ ان دونوں باتوں کا مغز اپنے اندر نہیں رکھتا تو اسے ڈرنا چاہیے کہ ایک وقت آتا ہے کہ وہ اس ہوائی انڈے کی طرح ذرا سی چوٹ سے چِکنا چُور ہو کر پھینک دیا جاوے گا۔اسی طرح جو بیعت اور ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اس کو ٹٹولنا چاہیے کہ کیا میں چھلکا ہی ہوں یا مغز؟جب تک مغز پیدا نہ ہو ایمان، محبت، اطاعت، بیعت، اعتقاد، مریدی ، اسلام کا مدعی سچا مدعی نہیں ہے۔یاد رکھو کہ یہ سچی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور مغز کے سوا چھلکے کی کچھ بھی قیمت نہیں۔خوب یاد رکھو کہ معلوم نہیں ،موت کس وقت آجاوے لیکن یہ یقینی امر ہے کہ مَرنا ضرور ہے۔پس نِرے دعویٰ پر ہرگز کفایت نہ کرو اور خوش نہ ہو جاؤ۔وہ ہرگز ہر گز فائدہ رساں چیز نہیں۔جب تک انسان اپنے آپ پر بہت موتیں وارد نہ کر ے اور بہت سی تبدیلیوں اور انقلابات میں سے ہو کر نہ نکلے وہ انسانیت کے اصل مقصد کو پا نہیں سکتا۔انسان کی حقیقت انسان اصل میں اُنسان سے لیا گیا ہے یعنی جس میں دو حقیقی اُنس ہوں۔ایک اللہ تعالیٰ سے دوسرا بنی نوع کی ہمدردی سے۔جب یہ دونوں انس اس میں پیدا ہو جاویں اس وقت انسان کہلاتا ہے اور یہی وہ بات ہے جو انسانیت کا مغز کہلاتی ہے اور اسی مقام پر انسان اُولُوا الْاَلْبَابِ کہلاتا ہے۔جب تک یہ نہیں کچھ بھی نہیں۔ہزار دعویٰ کرو اور دکھاؤ مگر