ملفوظات (جلد 2) — Page 527
ہے۔غرض یہ خدا تعالیٰ کے نشان ہیں ، ان کو عزّت اورعبرت کی نگاہ سے دیکھو اور اپنی ساری قوتوںکو خدا تعالیٰ کی مرضی کے نیچے استعمال کرو۔توبہ اور استغفار کرتے رہو تا خدا تعالیٰ اپنا تم پر فضل کرے۔۱ ۲۸؍دسمبر ۱۹۰۱ ء مُرشد اور مرید کے تعلقات مرشد اور مرید کے تعلقات استاد اور شاگرد کی مثال سے سمجھ لینے چاہئیں۔جیسے شاگرد استاد سے فائدہ اُٹھاتاہے اسی طرح مرید اپنے مرشد سے لیکن شاگرد اگر اُستاد سے تعلق تو رکھے مگر اپنی تعلیم میں قدم آگے نہ بڑھائے تو فائدہ نہیں اُٹھاسکتا۔یہی حال مرید کاہے پس اس سلسلہ میںتعلق پیدا کر کے اپنی معرفت اور علم کوبڑھاناچاہیے۔طالب ِحق کو ایک مقام پر پہنچ کر ہرگز ٹھہرنا نہیں چاہیے ورنہ شیطان لعین اور طرف لگا دے گا اور جیسے بند پانی میں عفونت پیداہو جاتی ہے اسی طرح اگر مومن اپنی ترقیات کے لیے سعی نہ کر ے تو وہ گر جاتاہے پس سعادت مند کا فرض ہے وہ طلب دین میںلگارہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کو ئی انسان کامل دنیا میںنہیںگزرا لیکن آپ کو بھی رَبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا (طٰہٰ: ۱۱۵) کی دعا کی تعلیم ہوئی تھی پھر اور کون ہے جو اپنی معرفت اور علم پر کامل بھروسہ کر کے ٹھہر جاوے اور آئندہ ترقی کی ضرورت نہ سمجھے۔جوں جوں انسان اپنے علم اور معرفت میں ترقی کرے گا اُسے معلو م ہوتاجاوے گا کہ ابھی بہت سی باتیںحل طلب باقی ہیں بعض امور کو ابتدائی نگاہ میں (اس بچے کی طرح جو اقلید س کے اشکال کو محض بیہودہ سمجھتاہے )بالکل بیہودہ سمجھتے تھے لیکن آخروہی امور صداقت کی صورت میں ان کو نظر آئے اس لیے کس قدر ضروری ہے کہ اپنی حیثیت کو بدلنے کے ساتھ ہی علم کو بڑھانے کے لیے ہر بات کی تکمیل کی جاوے، تم نے بہت ہی بیہودہ باتوں کو چھوڑکر اس سلسلہ کو قبول کیا ہے۔اگر تم اس کی بابت پورا علم اور بصیرت حاصل نہیں کرو گے تو اس