ملفوظات (جلد 2) — Page 526
ہے، اس لیے کبھی بے دل نہ ہو جا ؤ اور تنگی اور عسر کی حا لت میں گھبراؤ نہیں خدا تعالیٰ خود رزق کے معاملہ میں فر ما تا ہے وَ فِي السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ (الذّٰریٰت:۲۳) انسان جب خدا کو چھوڑتا ہے تو پھر شیطا ن کا غلا م بن جاتا ہے۔وہ انسا ن بہت ہی بڑی ذمہ داری کے نیچے ہو تا ہے جو خدا تعالیٰ کی آیات اور نشانا ت کو دیکھ چکا ہو۔پس کیا تم میں سے کو ئی ہے جو یہ کہے کہ میں نے کو ئی نشا ن نہیں دیکھا۔بعض نشان اس قسم کے ہیں کہ لاکھوںکروڑوں انسان ان کے گواہ ہیں۔جو ان نشانو ں کی قدر نہیں کرتا اور ان کو حقارت کی نگاہ سے د یکھتا ہے وہ اپنی جان پر ظلم کرتا ہے۔خدا تعالیٰ اس کو دشمن سے پہلے ہلا ک کرے گا کیو نکہ وہ شد ید العقاب بھی ہے۔جو اپنے آپ کو درست نہیں کرتا وہ نہ صر ف اپنی جان پر ظلم کر تا ہے بلکہ اپنے بیوی بچو ں پر بھی ظلم کرتا ہے کیو نکہ جب وہ خو د تبا ہ ہو جاوے گا تو اس کے بیوی بچے بھی ہلا ک اور خوار ہوں گے۔خدا تعالیٰ اس کی طر ف اشا رہ کرکے فرماتا ہے وَ لَا يَخَافُ عُقْبٰهَا(الشّمس:۱۶) مرد چونکہ اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ (النساء :۳۵) کامصداق ہے اس لیے اگر وہ لعنت لیتا ہے تو وہ لعنت بیوی بچوںکو بھی دیتاہے اور اگر برکت پاتاہے تو ہمسائیوں اور شہر والوں تک کو بھی دیتاہے۔اس وقت کل ملک میں طاعون کی آگ لگ رہی ہے۔وہ لوگ غلطی کررہے ہیں جو اس کو ملعون کہتے ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کاایک فرشتہ ہے جو اس وقت ایک خاص کام کے لیے مامور کیاگیا ہے۔اس کاعلاج خدا تعالیٰ نے مجھے یہی بتایاہے اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ (الرّعد : ۱۲)۔یہ طاعون بدکاریوں اور فسق وفجور اور میرے انکار اور استہزا کانتیجہ ہے اوریہ نہیں رک سکتا جب تک لوگ اپنے اعمال میں پاک تبدیلی نہ کریں اورسبّ و شتم سے زبان کو نہ روکیں۔پھر فرماتا ہے اِنَّہٗ اَوَی الْقَرْیَۃَ۔اس گائوںکو پریشانی اور انتشار سے حفاظت میںلے لیا۔کیا اس گائوںمیں ہر قسم کے لوگ چوہڑے، چمار، دہریہ اور شراب پینے والے اور بیچنے والے اور اَور قسم کے لوگ نہیںرہتے مگر خدا نے میرے وجود کے باعث سارے گائوںکو اپنی پناہ میںلے لیا اور اس افراتفری اور موت الکلاب سے اُسے محفوظ رکھا جو دوسرے شہروںاور قصبوںمیں ہوتی