ملفوظات (جلد 2) — Page 524
تم اُن راہوں سے آئو بے شک وہ تنگ راہیں ہیں لیکن اُن سے داخل ہو کر راحت اور آرام ملتا ہے۔مگر یہ ضروری ہے کہ اس دروازہ سے بالکل ہلکے ہو کر گزرنا پڑے گا اگر بہت بڑی گٹھڑی سر پر ہو تو مشکل ہے۔اگر گزرناچاہتے ہو تو اس گٹھڑی کو جو دنیا کے تعلقات اور دنیا کو دین پر مقدم کرنے کی گٹھڑی ہے پھینک دو۔ہماری جماعت خدا کو خوش کرنا چاہتی ہے تو اس کو چاہیے کہ اس کو پھینک دے۔تم یقیناً یاد رکھو کہ اگر تم میں وفاداری اور اخلاص نہ ہو تو تم جھوٹے ٹھہرو گے اور خدا تعالیٰ کے حضور راست باز نہیں بن سکتے۔ایسی صورت میں دشمن سے پہلے وہ ہلاک ہو گا جو وفاداری کو چھوڑ کر غدّاری کی راہ اختیار کرتا ہے۔خدا تعالیٰ فریب نہیں کھاسکتا اور نہ کوئی اُسے فریب دے سکتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ تم سچا اخلاص اور صدق پیدا کرو۔تم پر خدا تعالیٰ کی حجت سب سے بڑھ کر پوری ہوئی ہے۔تم میں سے کوئی بھی نہیں ہے جو یہ کہہ سکے کہ میں نے کوئی نشان نہیں دیکھا ہے۔پس تم خدا تعالیٰ کے الزام کے نیچے ہو اس لیے ضروری ہے کہ تقویٰ اور خشیت تم میں سب سے زیادہ پیدا ہو۔ذوالقرنین خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں مختلف طریقوں اور پہلوئوں سے اس سلسلہ کی حقانیت کو ثابت کیا ہے اور بتایا ہے یہاںتک کہ ہر ایک قصہ میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔مثلاً ذوالقرنین کا قصہ ہے اس میں اسی کی پیشگوئی ہے۔چنانچہ قرآن شریف کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین مغرب کی طرف گیا تو اُسے آفتاب غروب ہوتا نظر آیا یعنی تاریکی پائی اور ایک گدلاچشمہ اس نے دیکھا۔وہاں پر ایک قوم تھی۔پھر مشرق کی طرف چلتا ہے تو دیکھا کہ ایک ایسی قوم ہے جو کسی اوٹ میں نہیں ہے اور وہ دھوپ سے جلتی ہے۔تیسری قوم ملی جس نے یاجوج ماجوج سے بچائو کی درخواست کی۔اب یہ بظاہر تو قصہ ہے لیکن حقیقت میں ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے جو اس زمانہ سے متعلق ہے۔خدا تعالیٰ نے بعض حقائق تو کھول دیئے ہیں اور بعض مخفی رکھے ہیں۔اس لیے کہ انسان اپنے قویٰ سے کام لے۔اگر انسان نرے منقولات سے کام لے تو وہ انسان نہیں ہو سکتا۔ذوالقرنین اس لئے نام رکھا کہ وہ دو صدیوں کو پائے گا۔اب جس زمانہ میں خدا نے مجھے بھیجا ہے سب صدیوں کو بھی