ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 523 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 523

کیونکہ یہ طاعون پیدا کرنے کا مقدمہ تھا۔اﷲ تعالیٰ چونکہ جانتا تھا کہ وہ حد سے نکل جائیں گے اور اُن کی سزا طاعون تھی۔اس لیے پہلے سے وہ اسباب رکھ دیئے۔میں پھر اصل مطلب کی طرف آتا ہوں کہ اصل توحید کو قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت سے پورا حصہ لو اور یہ محبت ثابت نہیں ہوسکتی جب تک عملی حصہ میں کامل نہ ہو نری زبان سے ثابت نہیں ہوتی۔اگر کوئی مصری کا نام لیتا رہے تو کبھی نہیں ہو سکتا کہ وہ شیریں کام ہو جاوے یا اگر زبان سے کسی کی دوستی کا اعتراف اور اقرار کرے مگر مصیبت اور وقت پڑنے پر اس کی امداد اور دستگیری سے پہلو تہی کرے تو وہ دوست صادق نہیں ٹھہر سکتا۔اسی طرح پر اگر خدا تعالیٰ کی توحید کا نرا زبانی ہی اقرار ہو اور اُس کے ساتھ محبت کا بھی زبانی ہی اقرار موجود ہو تو کچھ فائدہ نہیں بلکہ یہ حصہ زبانی اقرار کی بجائے عملی حصہ کو زیادہ چاہتا ہے۔اس سے یہ مطلب نہیں کہ زبانی اقرار کوئی چیز نہیں ہے۔نہیں میری غرض یہ ہے کہ زبانی اقرار کے ساتھ عملی تصدیق لازمی ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ خدا کی راہ میں اپنی زندگی وقف کرو اور یہی اسلام ہے۔یہی وہ غرض ہے جس کے لیے مجھے بھیجا گیا ہے۔پس جو اس وقت اس چشمہ کے نزدیک نہیں آتا جو خدا تعالیٰ نے اس غرض کے لیے جاری کیا ہے وہ یقیناً بے نصیب رہتا ہے۔اگر کچھ لینا ہے اور مقصد کو حاصل کرنا ہے تو طالب صادق کو چاہیے کہ وہ چشمہ کی طرف بڑھے اور آگے قدم رکھے اور اس چشمہ جاری کے کنارے اپنا منہ رکھ دے اور یہ ہو نہیں سکتا جب تک خدا تعالیٰ کے سامنے غیرت کا چولہ اُتار کر آستانہ ربوبیت پر نہ گر جاوے اور یہ عہد نہ کرلے کہ خواہ دنیا کی وجاہت جاتی رہے اور مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں تو بھی خدا کو نہیں چھوڑے گا اور خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہے گا۔ابراہیم علیہ السلام کا یہی عظیم الشان اخلاص تھا کہ بیٹے کی قربانی کرنے کے لیے تیار ہو گیا۔اسلام کا منشا یہ ہے کہ بہت سے ابراہیم بنائے۔پس تم میں سے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہیے کہ ابراہیم بنو۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ ولی پرست نہ بنو بلکہ ولی بنواور پیر پرست نہ بنو بلکہ پیر بنو۔