ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 522 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 522

مانند ساری تورات اور انجیل میں نہیں اور نہ دنیا کی کسی اور کتاب نے کامل تعلیم دی ہے۔اِلٰهَ کے معنی ہیں ایسا محبوب اور معشوق جس کی پرستش کی جاوے۔گویا اسلام کی یہ اصل محبت کے مفہوم کو پورے اور کامل طور پر ادا کرتی ہے۔یاد رکھو کہ جو توحید بِدوں محبت کے ہو وہ ناقص اور اَدھوری ہے۔محبتِ الٰہی اور اپنی جماعت کو نصائح خدا کے ساتھ محبت کرنے سے کیا مراد ہے؟ یہی کہ اپنے والدین،جورو،اپنی اولاد، اپنے نفس غرض ہر چیز پر اﷲ تعالیٰ کی رضا کو مقدم کر لیا جاوے۔چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا (البقرۃ : ۲۰۱) یعنی اﷲ تعالیٰ کو ایسا یاد کرو کہ جیسا تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ اور سخت درجہ کی محبت کے ساتھ یاد کرو۔اب یہاں یہ امر بھی غور طلب ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ تعلیم نہیں دی کہ تم خدا کو باپ کہا کرو بلکہ اس لیے یہ سکھایا ہے کہ نصاریٰ کی طرح دھوکہ نہ لگے اور خدا کو باپ کر کے پکارا نہ جائے اور اگر کوئی کہے کہ پھر باپ سے کم درجہ کی محبت ہوئی تو اس اعتراض کے رفع کرنے کے لیے اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا رکھ دیا اور اگر اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا نہ ہوتا تو یہ اعتراض ہو سکتا تھا مگر اب اس نے اُس کو حل کردیا۔جو باپ کہتے ہیں وہ کیسے گرے کہ ایک عاجز کو خدا کہہ اُٹھے۔بعض الفاظ ابتلا کے لیے ہوتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ کو نصاریٰ کا ابتلا منظور تھا اس لیے اُن کی کتابوں میں انبیاء کی یہ اصطلاح ٹھہر گئی مگر چونکہ وہ حکیم اور علیم ہے اس لیے پہلے ہی سے لفظ ابّ کو کثیر الاستعمال کر دیا۔مگر نصاریٰ کی بدقسمتی کہ جب مسیح نے یہ لفظ بولا تو انہوں نے حقیقت پر حمل کر لیا اور دھوکا کھا لیا حالانکہ مسیح نے یہ کہہ کر کہ تمہاری کتابوں میں لکھا ہے کہ تم اِلٰه ہو اس شرک کو مٹانا چاہا اور ان کو سمجھانا چاہا مگر نادانوں نے پروا نہ کی اور اُن کی اس تعلیم کے ہوتے ہوئے بھی اُن کو ابن اﷲ قرار دے ہی لیا۔یہودیوں کو بھی اس قسم کا ابتلا آیا۔چونکہ موذی قوم تھی۔اُن کی درخواست پر منّ، سلویٰ نازل ہوا