ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 46

کوششیں نتیجہ خیز ہوں جب کہ وہ سب کے سب دنیا ہی کے لئے ہیں۔یاد رکھو جب تک لَآ اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ دل و جگر میں سرایت نہ کرے اور وجود کے ذرّہ ذرّہ پر اسلام کی روشنی اور حکومت نہ ہو کبھی ترقی نہ ہو گی۔اگر تم مغربی قوموں کا نمونہ پیش کرو کہ وہ ترقیاں کر رہے ہیں ان کے لئے اور معاملہ ہے۔تم کو کتاب دی گئی ہے۔تم پر حجت پوری ہو چکی ہے۔ان کے لئے الگ معاملہ اور مواخذہ کا دن ہے۔تم اگر کتاب اللہ کو چھوڑو گے تو تمہارے لئے اسی دنیا میںجہنم موجود ہے۔ایسی حالت میں کہ قریباً ہر شہرمیں مسلمانوں کی بہتری کے لئے انجمنیں اور کانفرنسیں ہوتی ہیں۔لیکن کسی ہمدردِ اسلام کے منہ سے یہ نہیں نکلتاکہ قرآن کو اپنا امام بناؤ۔اس پر عمل کرو۔اگر کہتے ہیں تو بس یہی کہ انگریزی پڑھو،کالج بناؤ، بیرسٹربنو۔اس سے معلوم ہو تا ہے کہ خدا پر ایمان نہیں رہا۔حاذق طبیب بھی دس دن کے بعد اگر دوا فائدہ نہ کرے تو اپنے علاج سے رجوع کر لیتے ہیں۔یہاں ناکامی پر ناکامی ہوتی جاتی ہے اور اس سے رجوع نہیں کرتے۔اگر خدا نہیں ہے تو اس کو چھوڑ کر بے شک ترقی کر لیں گے لیکن جب کہ خدا ہے اور ضرور ہے پھر اس کو چھوڑ کر کبھی ترقی نہیں کرسکتے۔اس کی بے عزتی کر کے، اس کی کتاب کی بے ادبی کر کے چاہتے ہیں کہ کامیاب ہوں اور قوم بن جاوے۔کبھی نہیں۔ہماری رائے تو یہی ہے جس کو آنکھیں دیکھتی ہیں۔ترقی کی ایک ہی راہ ہے کہ خدا کو پہچانیں اور اس پر زندہ ایمان پیدا کریں۔اگر ہم ان باتوں کو ان دنیا پرستوں کی مجلس میں بیان کریں تو وہ ہنسی میں اڑا دیں مگر ہم کو رحم آتا ہے کہ افسوس یہ لوگ اس کو نہیں دیکھ سکتے جو ہم دیکھتے ہیں۔آپ کو چونکہ خدا تعالیٰ نے موقع دیا ہے کہ اس قدر دور و دراز کا سفر اختیار کر کے اور راستہ کی تکلیف اٹھا کر آئے ہیں۔میںسمجھتا ہوں کہ اگر ایمانی قوت کی تحریک نہ ہوتی تو اس قدر تکلیف برداشت نہ کرتے۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزا دے اور اس قوت کو ترقی دے تا کہ آپ کو وہ آنکھ عطا ہو کہ آپ اس روشنی اور نور کو دیکھ سکیں اور جو اس زمانہ میںاللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے دنیا پر نازل کیا ہے۔بعض اوقات انسان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ کہیں جاتا ہے اور پھر جلد چلا آتا ہےمگر اس